مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 69 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 69

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 69 جماعت کے لئے ایک قدرتی سمجھوتے کے طور پر منجھلے بھائی جان کے سپر د رہا۔اور ہمیشہ نبھایا اور خوب نبھایا ، وہ نیک نیت ،خوش خلق ، اور منکسر المزاج تھے ، خود بہت حساس مگر دوسرے کے احساسات کا بھی بہت خیال رکھنے والے ، خدا تعالیٰ اور رسول کے عشق میں سرشار مگر ہر وقت ڈرنے والے۔(48) وہ بھی بہت اچھے بھائی بہت اچھے بیٹے ، اچھے شوہر ، اچھے آقا ، اچھے عزیز اچھے ہمسایہ ، اچھے دوست ، اچھے رفیق تھے، اچھے صلاح کار، نیک مشورہ دینے والے اور ہر ایک کا بھلا چاہنے والے تھے۔(49) مجھے کبھی یاد نہیں کہ بہت چھوٹی عمر میں بھی کبھی کسی بھائی نے مجھے کڑوی نظر سے بھی دیکھا ہو یا لڑے جھگڑے ہوں۔بڑے بھائی (حضرت خلیفہ اسیح الثانی ) تو خیر بڑے تھے اُن کا پیار تو ہمیشہ مجھے سب سے بڑھ کر ملا مگر میرے منجھلے بھائی بھی اُس عمر سے اب تک ہمیشہ شفیق اور چاہنے والے ہمدردر ہے۔میری ہوش میں پہلا نظارہ منجھلے بھائی کے بچپن کا جو مجھے بہت صاف یاد ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کہیں با ہر سے تشریف لائے تھے۔گھر میں خوشی کی لہر دوڑی گئی ، آپ آکر بیٹھے ، میں پاس بیٹھ گئی اور سب مع حضرت اماں جان بھی بیٹھے تھے ، کہ ایک فراخ سینہ ، چوڑے