محسنات — Page 26
26 مکرمہ صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ بیگم محترم میاں عبدالرحیم احمد صاحب رقمطراز ہیں:- " آپا جان بہت عبادت گزار اور تہجد گزار تھیں۔آپ کی دعاؤں میں بہت درد تھا۔بعد نماز فجر آپ نہایت خوش الحانی سے قرآن مجید کی تلاوت کرتیں۔رمضان شریف میں آپ کی عبادت کا رنگ قابل رشک تھا۔کئی شب روزہ دار افراد کو اپنے ہاں رکھتیں۔موسم گرما کی ایک رات ناقابل فراموش ہے۔ہم سب بچوں کی چار پائیاں بچھنے کے بعد بہت کم جگہ بچتی تھی۔وہیں پر آپا جان اور عائشہ پٹھانی اہلیہ مولوی غلام رسول صاحب معمولاً تہجد میں درد بھری دُعائیں کر رہی تھیں کہ میں نے دیکھا کہ چندھیا دینے والی روشنی سے ہمارا صحن منور ہو گیا ہے۔مجھے بھی خیال آیا کہ یہ لیلتہ القدر کی روشنی ہے۔میں نے لیٹے لیٹے شور مچا دیا کہ میرے لئے بھی دُعا کریں۔عائشہ پٹھانی نے بعد میں مجھے بتایا کہ یہ روشنی مجھے نظر آئی تھی اور میں اس وقت میاں طاہر احمد صاحب کے لئے دعا کر رہی تھی۔آپا جان کہتی تھیں کے رشید کے بولنے نے مجھے سب کچھ بھلا دیا اور میں نے اپنی بیٹی رشید کے لئے دعا کرنی شروع کر دی۔میں بھی یہ روشنی دیکھ رہی تھی۔جو چند سیکنڈ رہی اور مجھے بنتے ہوئے کہا کہ جب تم نے یہ نظارہ دیکھا تھا تو تم نے خود اُٹھ کر دُعا کیوں نہ کی۔ہماری بڑی بچی جان بیگم حضرت میاں بشیر احمد صاحب اور آپا جان دونوں اکٹھے جاکر ( بیت) اقصیٰ میں نماز تراویح پڑھا کرتی تھیں۔اگر طبیعت کی خرابی کی وجہ سے ( بیت) اقصیٰ نہ جاسکتیں تو دوسروں کے ساتھ مل کر گھر میں ہی (جو ( بیت) اقصیٰ سے ملحق ہے ) تراویح پڑھ لیتیں۔وہاں حافظ محمد رمضان صاحب کی آواز سنائی دیتی تھی۔درسِ قرآن مجید میں بھی آپ شامل ہوتی تھیں۔جن افراد کو رمضان شریف میں آپ نے اپنے گھر میں رکھا ہوتا ان کے لئے