محسنات — Page 212
212 کرتی جاتی ہیں۔آج جو آپ لوگوں کو خدا کے حضور غیر معمولی قربانیوں کی توفیق مل رہی ہے اس میں یقیناً ان ماؤں کا دخل ہے جنہوں نے چار چار آٹھ آٹھ آنے کی قربانیاں اس طرح پیش کیں گویا اپنا لہو پیش کر رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس لہو کو ایسے رنگ لگائے کہ آج تمام دنیا میں خواتین عظیم قربانیاں پیش کر رہی ہیں اور ان قربانیوں کے نتیجہ میں خدمت دین کے بڑے بڑے کام لئے جارہے ہیں اللہ تعالیٰ اس جذبے کو ہمیشہ سلامت اور دائم اور قائم رکھے۔حضرت فضل عمر پرانے زمانے کا ذکر فرماتے ہیں کہ جب ابھی بہت زیادہ غربت تھی، ایک بڑھیا خاتون نے جس کا خاوند فوت ہو چکا تھا۔حضور کی تحریک پر باوجود غربت کے وعدہ کیا کہ آٹھ آنے ماہوار دیا کروں گی۔آپ اندازہ کریں اُس وقت آٹھ آنے کی کیا قیمت تھی اور اُس زمانے میں آٹھ آنے ماہوار ادا کرنا اُس کے لئے کتنا مشکل تھا لیکن چند مہینے اُس نے آٹھ آنے ماہوار ادا کئے اور اس کے بعد پھر بے قرار ہوگئی کہ مجھے وعدہ پورا کرتے ہوئے ایک سال لگے گا تو حضرت فضل عمر کی خدمت میں باقی پیسے پیش کرتے ہوئے اُس نے کہا اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ خواہ فاقے کرنے پڑیں لیکن میں اکٹھا دونگی وہ آٹھ آنے بچانے کے لئے واقعی اس عورت کو فاقے درپیش تھے تو بظاہر یہ ایک بہت معمولی قربانی تھی لیکن وہ جذ بہ، وہ اخلاص، اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو کر اپنے اموال پیش کرنا یہ وہی ہے جو آج ساری جماعت کے کام آ رہا ہے۔“ یہ جرمنی جس میں ہم اس وقت بیٹھے ہوئے ہیں اُن کا جماعت پر بڑا حسان ہے مگر وہ قربانیاں جو غریبوں نے جرمن قوم کو دین سکھانے کے لئے پیش کی تھیں وہ چند آنوں کی ہوں یا بکریوں کی ہوں ، روپوں کی ہوں یا زیورات کی یا گھر کے برتنوں کی، امر واقعہ یہ ہے کہ اُن کی چمک دمک کو آئندہ زمانوں کی کوئی بھی قربانیاں ماند نہیں کر سکتیں۔قربانی کا تعلق دل کے جذبوں سے ہوا کرتا ہے۔پیسوں کی مقدار