محسنات

by Other Authors

Page 128 of 286

محسنات — Page 128

128 لیکن انہوں نے مجھے پتہ ہی نہیں لگنے دیا اور ایسی حالت میں وفات پاگئیں۔مجھے بعد میں پتہ چلا کہ کیا کیفیت تھی۔کس طرح انہوں نے اپنے بچوں کو روک رکھا تھا کہ مجھے اطلاع نہ دیں۔ایک واقعہ ایک ماں اور بچے کا بہت ہی دلچسپ ہے۔جو ماں اور بچے کے آپس میں معاملے کا ہے۔مکرمہ نذیر بیگم صاحبہ جو مولوی عبدالرحمان صاحب انور کی بیگم ہیں ان کا واقعہ ہے وہ لکھتی ہیں ایک دن میں اپنی ساس امتہ العزیز صاحبہ کے ساتھ حضرت مولوی حافظ روشن علی صاحب سے ملنے گئی تو انہوں نے پوچھا عبدالرحمان کہاں ہے یعنی عبد الرحمان صاحب انور کی والدہ سے پوچھا کہ عبدالرحمان بہت۔۔کہاں ہے؟ تو اُن کی والدہ نے کہا وہ گورنمنٹ میں ملازم ہو گیا ہے۔اب اس خبر پر انسان عام طور پر کہتا ہے کہ انہوں نے کہا ہوگا اچھا اچھا۔۔۔۔۔۔۔مبارک بہت۔۔۔لیکن حافظ روشن علی صاحب کا جواب سنئے۔حافظ صاحب جو لیٹے ہوئے تھے اُٹھ کر بیٹھ گئے۔اور اپنے زانوؤں پر ہاتھ مار کر کہا۔جب ناک پونچھنانہ آتا تھا تو ہمارے حوالے کر دیا اور جب کسی قابل ہوا تو گورنمنٹ کو دے دیا۔یہ کون سا انصاف ہے؟ ان کی والدہ کہتی تھیں کہ میں حضرت حافظ صاحب کی گرجدار آواز سن کر تھر تھر کانپنے لگی۔میں نے گھر آکر انور کو خط بھجوایا کہ استعفیٰ دیکر فوراً آ جاؤ۔ان کا جواب آیا وہ 15، 16 کڑی شرائط پر مشتمل تھا۔اب آپ سوچیں گی کہ وہ شرائط کیا ہیں۔بڑی سخت شرائط تھیں کہ میں آؤں گا لیکن میری یہ شرطیں ہیں۔اگر آپ کو منظور ہیں تو آؤں گا ورنہ نہیں آؤں گا۔وہ شرطیں سن لیجئے۔وہ ساری شرطیں تو کہتی ہیں مجھے یاد نہیں۔لیکن کہتی ہیں کہ تین شرطیں جو نمایاں طور پر یاد رہیں وہ یہ تھیں کہ جب اور جہاں جتنی دیر کے لئے بھیجیں گے چلا جاؤں گا۔اگر تنخواہ نہیں دیں گے تو مطالبہ نہیں