محسنات

by Other Authors

Page 75 of 286

محسنات — Page 75

75 مکرمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ حضرت خلیفتہ اسیح الاول کے شاگردمولوی غلام محمد صاحب کی اہلیہ تھیں۔مدرستہ الخواتین سے 1930 ء میں مولوی کا امتحان پاس کیا۔آپ میں ریر کا ملکہ شروع ہی سے نمایاں تھا۔1928ء میں جلسہ سالانہ کے موقع پر پہلی مرتبہ تقریر کی بعد ازاں یہ سلسلہ جاری رہا۔1948 ء سے مدرسۃ البنات میں معلمہ رہیں۔نظارت کی طرف سے کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے امتحانات کے موقع پر طالبات کو پڑھایا کرتیں۔1946ء میں تعلیم بالغاں کی مہم کے سلسلہ میں اُستانی میمونہ صوفیہ صاحبہ نے نمایاں کام کیا۔الیکشن کمیٹی کی ایک ممبر تھیں اس کمیٹی کے لئے حضرت مصلح موعود نے نہایت تعریفی الفاظ ارشاد فرمائے ہیں۔تحریک جدید میں خواتین کے حصہ لینے کے لئے آپ نے پر جوش تقریر کے ذریعے تحریک کی۔احمد یہ گرلز اسکول ساندھن : ساندھن وہ جگہ ہے جسے جماعت احمدیہ نے ملکا نہ قوم کی آبادیوں میں سے چُن کر ( دینِ حق کی تبلیغ کا مرکز بنایا۔بہت قلیل عرصہ میں وہاں سینکڑوں فدائی ( دینِ حق ) پیدا ہو گئے جن میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں۔وہاں لڑکوں اور لڑکیوں کا اسکول جاری کیا گیا۔۔جہاں آرا بیگم صاحبہ بنت قریشی افضل احمد صاحب مدرس تھیں۔( الفضل 21 مئی 1925 صفحہ 2) حضرت مصلح موعود نے عورت کو عضو معطل کی طرح بے کا رحیثیت سے اُٹھا کر اُسے نہایت کارآمد اور ملک و قوم کے لئے باعث برکت ورحمت بنا دیا۔اور اُسے وہ مقام عطا کیا جو حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے لئے تجویز فرمایا تھا۔اور امت مسلمہ نے اُس کو یکسر بھلا رکھا تھا۔1922ء میں خواتین کی تنظیم لجنہ اماء اللہ قائم