محسنات

by Other Authors

Page 76 of 286

محسنات — Page 76

فرمائی۔76 بچوں کی تعلیم وتربیت کو نہایت اہم کام قرار دیا۔آپ فرماتے ہیں:۔اصل ذمہ داری عورتوں پر بچوں کی تعلیم وتربیت کی ہے اور یہ ذمہ داری جہاد کی ذمہ داری سے کچھ کم نہیں۔اگر بچوں کی تربیت اچھی ہو تو قوم کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور قوم ترقی کرتی ہے۔اگر ان کی تربیت اچھی نہ ہو تو قوم ضرور ایک نہ ایک دن تباہ ہو جاتی ہے۔پس کسی قوم کی ترقی اور تباہی کا دارو مدار اُس قوم کی عورتوں پر ہی ہے۔اگر آج کل کی مائیں اپنی اولادوں کی تربیت اسی طرح کرتیں جس طرح صحابیات نے کی تو کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ اُن کے بچے بھی ویسے ہی قوم کے جاں نثار سپاہی ہوتے جیسے کہ صحابیات کی اولادیں تھیں۔الازھار لذاوات الخمار صفحہ 327) پس عورتوں کی تربیت کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ اُن کو علم دین سکھایا جائے اور انہیں وہ حقوق دیئے جائیں جو خدا نے مقرر کئے ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تمہارے ذمہ عورتوں کے کچھ حقوق ہیں جیسے عورتوں پر مردوں کے کچھ حقوق ہیں پس عورتوں کو اُن کے جائز حقوق دیئے جائیں اور اُن کے دلوں میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ شریعت نے اُن کے جو حقوق مقرر کئے ہیں مردان کے دینے میں کبھی تامل سے کام نہیں کرتے۔اگر عورتوں کے ساتھ اس رنگ میں سلوک کیا جائے تو لازماً ان کی تربیت بھی زیادہ عمدہ ہوگی اور اُن کے اندر بیداری بھی پیدا ہو جائے گی۔اصل بیداری باہر سے نہیں آتی بلکہ اندر سے پیدا ہوتی ہے۔اور اندرونی طور پر قلب میں بیداری کا احساس اُسی وقت پیدا ہوتا ہے جب سوچنے اور غور وفکر سے کام لینے کا مادہ ترقی کرے۔جب تک انسان کے اندر سوچنے کا مادہ نہ ہو اور جب تک اس کے اندر اپنی ذمہ داری کو محسوس کرنے کا مادہ نہ