محسنات — Page 31
31 والدہ صاحبہ کمرہ میں داخل ہو کر اُن کی پیٹھ کی طرف کھڑی ہوگئیں جب اُنہوں نے محسوس کیا کہ کوئی شخص کمرہ کے اندر آیا ہے تو انہوں نے اپنا جوتا پہنے کے لئے پاؤں پلنگ سے نیچے اُتارے۔گویا کمرہ سے چلے جانے کی تیاری کرنے لگے ہیں۔والدہ صاحبہ نے عرض کی یا حضرت مجھے تمام عمر میں کبھی اس قدر خوشی محسوس نہیں ہوئی جس قدر آج میں محسوس کر رہی ہوں۔آپ تھوڑی دیر تو اور تشریف رکھیں۔چنانچہ وہ بزرگ تھوڑی دیر اور ٹھہر گئے اور پھر جب تشریف لے جانے لگے تو والدہ صاحبہ نے دریافت کیا۔یا حضرت اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ تمہیں کون بزرگ ملے ہیں تو میں کیا بتاؤں؟ انہوں نے دائیں کندھے کے اوپر سے پیچھے دیکھ کر اور دایاں بازو اٹھا کر جواب دیا:- اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ کون ملے ہیں تو کہیں احمد ملے ہیں۔ہمارے ماموں صاحب بھی اُس دن سیالکوٹ ہی میں تھے والدہ صاحبہ نے اس رویا کا ذکر والد صاحب اور ماموں صاحب سے کیا۔ماموں صاحب نے فرمایا یہ تو میرزا صاحب تھے۔والدہ صاحبہ نے کہا اُنہوں نے اپنا نام مرزا صاحب تو نہیں بتایا احمد بتایا ہے۔ماموں صاحب نے فرمایا میرزا صاحب کا نام ” غلام احمد“ ہے اور والدہ سے کہا کہ آپ دُعا کرتی رہیں اللہ تعالیٰ آپ پر حق کھول دے گا۔چند دن کے اندر ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیالکوٹ تشریف آوری کے متعلق اطلاع مل گئی۔والدہ صاحبہ نے پھر رویا میں دیکھا کہ :- دد بعض سڑکوں پر سے گزر کر وہ ایک مستقف گلی کے