محسنات — Page 264
264 بیگم صاحبہ ) سے میرا ایک خاص تعلق اس وجہ سے بھی تھا۔میری ان تک رسائی تھی اور وہ بعض دفعہ بڑے پیار کے ساتھ مجھے اپنا کلام سنادیا کرتی تھیں ابھی کچھ عرصہ پہلے جب میں ملاقات کے لئے گیا تو ایک بہت ہی پرانی نظم جو حضرت پھوپھی جان نے مجھے قادیان کے زمانہ میں سنائی تھی اس کے ایک دو شعر سنانے کو کہے تو ان کے چہرے پر عجیب مسکراہٹ پیدا ہوئی کہ تم اب تک وہ باتیں یا در کھتے ہو۔“ مصباح جنوری فروری 1988 صفحہ 18) نمونہ کلام : مری جدائی گوارا ہوئی تمہیں کیوں کر تمہیں یہ ذکر بھی تھا ناگوار یاد کرو کہاں ہے کدھر ہے قرار مرے دل کا بنے تھے تم مرے دل کا قرار یاد کرو محترمہ صاحبزادی امتہ القدوس بیگم صاحبہ: جماعت احمدیہ کی شعری روایات کی پاسدار، بلند پاکیزہ مضامین کے ساتھ قادر الکلامی اور نمنگی نے صاحبزادی امتہ القدوس بیگم صاحبہ کو منفرد مقام عطا کیا ہے۔نمونہ کلام : خدا کا یہ احسان ہے ہم پہ بھاری کہ جس نے ہے اپنی یہ نعمت اُتاری نہ مایوس ہونا گھٹن ہو نہ طاری رہے گا خلافت کا فیضان جاری