محسنات — Page 233
233 سے رنجش ہوگئی۔اس تکرار کے وقت میں بھی وہاں موجود تھا۔چنانچہ اس کے اثر سے میں نے صفی اللہ (ابن سید ولی اللہ شاہ صاحب) سے بولنا چھوڑ دیا امی کو معلوم ہوا تو سخت ناراض ہوئیں اور کہا خبر دار جو آئندہ لڑائی بھڑائی میں بڑوں کی نقل کی۔بچوں کی لڑائی میں کبھی اپنے بچوں کا نا جائز ساتھ نہیں ویق تھیں یہ برداشت نہیں کرتی تھیں کہ بچے کسی خادم پر ہاتھ اُٹھا ئیں اگر کوئی ایسا کر بیٹھتا تو اُسے بدنی سزا دیتی تھیں۔( تابعین ( رفقائے ) احمد جلد سوم صفحہ 236 تا 240) حضرت سیدہ مریم بیگم ام طاہر کے بارے میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے فرمایا۔۔ایک دفعہ تکلیف کی شدت میں موت کو سرہانے کھڑے دیکھ کر مجھ سے یہ الفاظ کہے:- طاہری مجھے یہ بہت احساس ہے کہ میں تمہارا خیال نہیں رکھ سکی اور جیسا کہ حق تھا تم سے پیار نہیں کر سکی بلکہ ہمیشہ سختی کی۔یہ صرف تمہاری تربیت کی خاطر تھا۔لیکن مجھے اس کی بھی تکلیف ہے۔(سيرة سیّدہ اُم طاہر صفحہ 245) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے تحریر فرمایا : - ہماری مرحومہ بہن ( سیده مریم بیگم صاحبہ ) اس جذبہ میں بھی غیر معمولی شان رکھتی تھیں اور انہیں اپنی اولاد کی بہتری اور بہبودی اور اس سے بڑھ کر ان کی دین داری کا بے حد خیال رہتا تھا وہ اُن کے واسطے نہ صرف خود بے انتہا دعائیں کرتی تھیں بلکہ دوسروں کو بھی کثرت کے ساتھ تحریک کرتی رہتی تھیں اور پھر اولا د کے ساتھ اُن کی