محسنات — Page 234
234 محبت کا رنگ بھی نرالا تھا۔جو حجاب بسا اوقات والدین کو اولاد کے درمیان ادب کے فرق وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہو جاتا ہے وہ اُن میں اور اُن کی اولا د میں بہت کم پایا جاتا تھا کیونکہ اُن کی عادت تھی کہ بچوں کو بے تکلف عزیزوں کی طرح اپنے ساتھ لگائے رکھتی تھیں۔بایں ہمہ اُن کے بچوں میں اپنی والدہ محترمہ کا بے حد ادب تھا اور وہ اپنی والدہ کے لئے حقیقتا قرۃ العین تھے۔سیدہ موصوفہ اپنی اولاد کے حق میں ایک بہترین ماں تھیں اور اُن کی دینی و دنیوی بہبودی کے لئے بے حد کوشاں رہتی بہترین ماں تھیں اور ان کی (سیرت سیدہ ام طاہر صفحہ 262 تا 263) حضرت فضل عمر نے بھی تربیت اولاد کے سلسلہ میں بارہا والدین کو اور خصوصاً ماؤں کو توجہ دلائی آپ نے اس سلسلہ میں فرمایا: - ماؤں کی ذمہ داری اس قدر اہم ہے کہ اگر مخلص مرد چاہیں بھی کہ وہ اپنی اولادوں کی تربیت کریں تو اُن میں ایسا کرنے کی طاقت نہ ہوگی۔کیونکہ بچوں کی تربیت کرنے کی طاقت مرد سے زیادہ عورت میں ہی ہے اس لئے تمہیں چاہیے کہ تم اپنی ذمہ داری کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کرو بلکہ پوری توجہ سے اس فریضہ کو ادا کرو۔“ (مصباح جنوری 1939ء) یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ تاریخ احمدیت مثالی ماؤں کے سلسلہ میں بھی مالا مال ہے اور اُن ماؤں نے اس فریضہ کو بڑی محنت اور جاں شاری سے ادا کیا اور اپنی اولا دوں کو اعلیٰ تربیت سے آراستہ کیا اس طرح کہ وہ دین و دنیا میں ایک ممتاز مقام کی حامل ہوئیں۔مثلاً حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم جن کی گود کا پالا حضرت مصلح موعود جیسا