محسنات

by Other Authors

Page 215 of 286

محسنات — Page 215

215 اور سے پیچھے نہیں رہ سکتیں۔بڑے ہی دردناک نظارے ہیں جو آج میری آنکھوں کے سامنے آتے ہیں تو میرے لئے ضبط کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔کون دُنیا میں کہہ سکتا ہے کہ یہ پس ماندہ خواتین ہیں بے کار ہیں۔گھروں میں بند ہیں۔جو احمدی خواتین اس وقت دنیا کے سامنے مثبت کاموں کے نمونے پیش کر رہی ہیں کوئی دُنیا کی دوسری قوم ان کے پاسنگ کو بھی نہیں پاسکتی میں اس کے چند نمونے آپ کے سامنے رکھتا ہوں :- ایک ماں نے میرے پاس دس ہزار روپے بھیجے لکھتی ہیں کہ میرے پاس بیٹی کے زیور کے لئے دس ہزار روپے جمع تھے جو سُنار کو دیئے ہوئے تھے لیکن یہ خطبہ سن کر دل نے فیصلہ کیا کہ جب میرا خدا میری بیٹی کے لئے ساتھی دے گا تو زندہ خدا اس کو زیور بھی دے گا۔آج میرے حضور کو ضرورت ہے چنانچہ سُنار کو دیئے ہوئے وہ پیسے واپس لے کر یورپین مشن کے چندے میں دے دیئے۔ایک اور عورت بھتی ہے میں نے کچھ عرصہ پہلے اپنے زیور کا سیٹ مبلغ چار ہزار روپے میں فروخت کیا تھا کہ کچھ اور رقم جمع کر کے ذرا بھاری سیٹ بنواؤں گی تا کہ بچیوں کے کام آسکے لیکن بچیوں کے لئے اللہ کوئی اور انتظام کر دے گا۔اب زیور بنوانے کی خواہش نہیں رہی میری طرف سے یورپین مشن کے لئے یہ حقیر رقم قبول فرمائیں۔ایک واقف زندگی کی بیگم نے لکھا اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ میں اس قربانی کے موقع پر حاضری دوں اور قرآن مجید کے حکم لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ یعنی تم ہر گز نیکی کو نہیں پا سکو گے جب تک اس میں سے خرچ نہ کرو جو تمہیں عزیز ہو، جو تمہیں پیارا ہو۔کہتی ہیں کہ اس آیت کے تابع میں نے سوچا کہ مجھے اپنی ملیتی چیزوں میں سے جو چیز سب سے پیاری ہے وہ پیش کروں تو میں نے دیکھا کہ میرے گلے کا ایک ہار جو میرے زیوروں میں سے