محسنات — Page 125
125 سلام بھیجتی رہیں۔مکرم مولوی رحمت علی صاحب جو متفرق اوقات میں 26 سال باہر رہے اور ان کی بیوی نے عملاً یہ دن بیوگی کی حالت میں کالے زیادہ تر عرصہ جاوا سماٹرا۔وغیرہ میں گزارا۔ان کے ایک بچے کے متعلق حضرت فضل عمر بتایا کرتے تھے کہ اپنی ماں سے پوچھتے تھے کہ لوگوں کے ابا آتے ہیں اور چیزیں لیکر آتے ہیں۔ہمارے ابا کہاں ہیں کہاں چلے گئے تو بیوی آبدیدہ ہو جایا کرتی تھیں منہ سے بول نہیں سکتی تھیں۔جس طرف وہ سمجھتی تھیں کہ انڈونیشیا ہے اُس طرف انگلی اٹھا دیا کرتی تھیں کہ تمہارے ابا دین کی خدمت کے لئے وہاں گئے ہیں اور قربانی کے لحاظ سے ایسی عظیم خاتون تھیں کہ بالآخر جب حضرت فضل عمر نے یہ فیصلہ کیا کہ اب ان کو بلا لیا جائے۔کم سے کم دونوں کا بڑھا پا تو اکٹھا گزرے تو یہ احتجاج کرتی ہوئی حضرت فضل عمر کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ آپ میری قربانیوں کو ضائع نہ کریں۔جو عمر ہماری اکٹھے رہنے کی تھی وہ تو ہم نے علیحدگی میں گزار دی اور اب اُس پر موت ایسی حالت میں آئے کہ وہ مجھ سے علیحدہ ہو اور خدا کے حضور میری یہ قربانی قبول ہو۔آمنہ خاتون اہلیہ نذیر احمد مبشر کا ذکر گزر چکا ہے۔نصرت جہاں اہلیہ مولوی امام دین صاحب ابھی زندہ ہیں اور کافی بیمار ہیں۔کمزور ہو چکی ہیں اں کو بھی اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔انہوں نے بھی متفرق اوقات میں 20 سال اپنے خاوند سے علیحدہ گزارے ہیں اور ان کی اولا د بھی اپنے والد کو بہت کم جانتی تھی۔زیادہ تر وہ انڈونیشیا میں رہے ہیں۔مکرمہ بیگم صاحبه قریشی محمد افضل صاحب خدا کے فضل سے ایسی صابرہ خاتون ہیں کہ 27 سال سے زائد عرصہ اپنے خاوند سے جدا رہیں اور کبھی ایک لفظ بھی زبان پر نہیں لائیں۔میں جب اس تاریخ کا مطالعہ کر رہا تھا۔احمدی علماء مقرر