محسنات — Page 124
124 جزا تو خود خدا کے پاس ہے اور وہی ہے جو ہمیشہ ان کو جزاء دیتا چلا جائے گا۔مبلغین کرام کی بیویاں جن کے خاوند تبلیغ کے لئے ایک لمبا عرصہ ملک سے باہر رہے اور انہوں نے یہ وقت بغیر خاوندوں کے گزارا ہے ان میں سرفہرست حکیم فضل الرحمان صاحب کی اہلیہ ہیں۔23 سال نائیجریا میں رہے۔پہلے سات سال مسلسل اور پھر 16 سال مسلسل۔دونوں مرتبہ ان کی بیوی نے اکیلے وقت گزارا ہے۔آپ جانتی ہیں کہ شادی کے بعد عورت کی شادی کی خوشیوں کی جو زندگی ہے وہ بمشکل 23 سال تک چلتی ہے۔اس کے ساتھ بچوں کے بوجھ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔کئی قسم کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں اور غربت اگر ہو تو پھر اور بھی مصیبت بنتی ہے اور بعد میں تو زندگی گھسیٹنے والی بات ہے تو خاوند کی 23 سال کی جدائی کے بعد اس کا کیا باقی رہا ہوگا اور کونسی خوشیاں اُس نے زندگی میں دیکھی ہوں گی یا اپنے بچوں کو خوشیاں دکھائی ہوں گی۔پھر مکر مہ امۃ الرفیق صاحبہ اہلیہ غلام حسین صاحب ایاز ہیں۔ایاز صاحب مسلسل ساڑھے پندرہ سال سنگا پور میں رہے۔اب تو سنگا پور یوں لگتا ہے کہ چھلانگ لگاؤ تو سنگا پور چلے جاؤ۔اُس زمانے میں جبکہ قادیان سے سنگا پور نسبتاً بہت نزدیک ہے اتنی دور کھائی دیتا تھا اور جماعت اتنی غریب تھی کہ سنگا پور بھیج کر جماعت نے گویا کالے پانی بھجوا دیا۔یہ عرصہ سنگا پور بھیج کر وہاں سے بلانے کی توفیق نہ تھی۔ٹکٹ بھیجنے کی توفیق نہیں تھی۔آج آپ جماعت کو جس حال میں دیکھ رہے ہیں اب تو 126 ممالک سے بھی بڑھ گئے ہیں۔جہاں حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا پیغام تمام دنیا میں زمین کے کناروں تک پہنچا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ان کے پیچھے جن عظیم خواتین نے قربانیاں پیش کی ہیں اور اس فصل کی آبیاری کی ہے ان کا بھی کبھی کبھی ذکر چلتے رہنا چاہیے تا کہ آئندہ نسلیں ہمیشہ ان پر درود اور