محسنات

by Other Authors

Page 119 of 286

محسنات — Page 119

119 کو اس طرح بکریوں کی طرح خدا کے حضور پیش کر دینا اور پھر اس خوشی اور یقین کے ساتھ اور اس صداقت کے ساتھ اُن کا یہ اظہار کہ بال بھر بھی اپنے عقائد میں تبدیلی نہیں کروں گی۔ان کا جو یہ فقرہ ہے سادہ سا ہے لیکن اس میں گہری صداقت ہے۔۔پھر آپ کی بہوؤں کے متعلق قربانیوں کے ذکر بڑی تفصیل کے ساتھ ملتے ہیں کہ انہوں نے نظر بندی کے وقت بہت خطرناک تکلیفوں اور بھوک اور پیاس کے دکھ برداشت کرتے ہوئے کس طرح احمدیت پر ثبات قدم دکھایا اور اپنے بچوں کی بھی نہایت اعلیٰ درجہ کی تربیت کی جو اب خدا کے فضل سے ایک جاری وساری کہانی بن گئی ہے اور صاحبزادہ صاحب کی اولاد میں نسلاً بعد نسل اسی خلوص کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں جو اُس عظیم شہید کے خون میں دکھائی دیا کرتی تھیں۔اُن کا ورثہ آگے نسلوں میں جاری کرنے میں ماؤں نے دخل دیا ہے۔یہ میں آپ کو سکھانا چاہتا ہوں۔یہ بات یا درکھیے کہ ایک انسان خواہ کتنی ہی بڑی عظیم قربانی کیوں نہ پیش کرے اگر اس کی بیوی اس کا ساتھ نہ دے تو اولا دضائع ہو جایا کرتی ہے۔اولاد میں یہ نیکیاں نہیں چلا کرتیں۔اس (قربانی) کی صداقت اُس کی بیوی کی وساطت سے اُس کی اولاد میں پہنچی۔پس آج ساری دنیا میں پھیلی ہوئی حضرت صاحبزادہ صاحب کی اولا دان ماؤں کو بھی خراج تحسین پیش کر رہی ہے جن ماؤں نے اُن کی عظمت کردار کو مستقل بنانے میں یہ عظیم حصہ لیا۔بعد کے دور میں آپ تاریخ میں یہ واقعات تو کثرت سے پڑھتی ہوں گی کہ کس طرح افریقہ میں جماعت پھیلی ، کس طرح امریکہ میں جماعت پھیلی۔کس طرح یورپ میں قربانیاں پیش کی گئیں کس طرح مشرق میں اور کس طرح مغرب میں لیکن بہت کم لوگوں کے سامنے ان خواتین کی قربانیاں آتی ہیں جنہوں نے محض اپنے