محسنات — Page 97
97 عورتوں کی طرف سے اظہار رائے کیا۔دوسری بار 1929 ء میں حضرت مصلح موعود نے عورتوں کو پھر مشاورت کے موقع پر بولنے کی دعوت دی تو پھر آپ نے جرات سے یوں مؤدبانہ اظہار رائے کیا۔میں صرف اتنا پوچھنا چاہتی ہوں جب ہمارے لئے درسگا ہیں اس لئے کھولی جارہی ہیں کہ ہم علم حاصل کر کے ( دین حق ) کو پھیلائیں۔تو کیا یہ بات ہمارے لئے سدِ راہ نہ ہوگی کہ قوم ہمارے لئے فیصلہ کر دے کہ عورتوں کو مجلس مشاورت کی نمائندگی کا حق حاصل نہیں۔جب ہم ( دیگر ) عورتوں کے سامنے اپنے خیالات پیش کریں گی تو وہ یہ جواب دیں گی کہ تمہارے مذہب نے تو تمہارے لئے مشورہ کا حق بھی نہیں رکھا اس لئے تمہاری بات ہم نہیں سنتیں۔“ تاریخ لجنہ جلد اوّل صفحہ 239) حضرت مصلح موعود کی طرف سے حضرت حسین بی بی صاحبہ والدہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی وفات پر ایک تعزیتی نوٹ شائع ہوا تھا جس میں اُن کی جرات مندی کو حضور اقدس نے بایں الفاظ بیان فرمایا۔مجھے اُن کا یہ واقعہ نہیں بھول سکتا۔جو بہت سے مردوں کے لئے بھی نصیحت کا موجب بن سکتا ہے کہ گزشتہ ایام میں جب احراری فتنہ قادیان میں زوروں پر تھا اور ایک احراری ایجنٹ نے عزیزم میاں شریف صاحب پر راستہ میں لاٹھی سے حملہ کیا تھا۔جب انہیں ان حالات کا علم ہوا۔تو انہیں سخت تکلیف ہوئی بار بار چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے کہتی تھیں ” ظفر اللہ خان میرے دل کو کچھ ہوتا ہے اماں جان کا دل تو بہت کمزور ہے۔اُن کا کیا حال ہو گا۔کچھ دنوں بعد چوہدری صاحب گھر میں داخل ہوئے تو انہیں معلوم ہوا جیسے مرحومہ اپنے آپ سے کچھ باتیں کر رہی ہیں اُنہوں نے پوچھا کہ بے بے جی کیا بات ہے؟ تو مرحومہ نے جواب دیا کہ میں