محسنات — Page 88
88 آئیں گے انہیں جماعت کی طرف سے بالترتیب طلائی اور نقرئی تمغہ جات سے نوازا جائے گا۔چنانچہ 1980ء سے تمغہ جات دینے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔1989ء تک 83 لڑکوں اور لڑکیوں نے نظارت تعلیم کے ریکارڈ کے مطابق طلائی اور نقرئی تمغہ جات حاصل کئے۔اگر چہ 1989ء کے بعد تمغہ جات کی تقسیم کی کوئی تقریب منعقد نہ ہوسکی۔تاہم احمدی لڑکے اور لڑکیاں بڑی تعداد میں اوّل اور دوم آکر جماعت کا نام روشن کر رہے ہیں۔1980 ء سے قبل بھی بے شمار احمدی طالبعلم اپنی نمایاں صلاحیتوں کا ثبوت دیتے رہے ہیں۔مثال کے طور پر 1980 ء سے 1989 ء تک طلائی یا نقرئی تمغہ جات حاصل کرنے والی احمدی لڑکیوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔1980ء میں (1) طیبہ حمید بنت چوہدری حمید اللہ صاحب ربوہ میٹرک میں طالبات میں دوسری پوزیشن حاصل کر کے طلائی تمغہ انعام دوم حاصل کیا۔(2) شاہینہ سعادت بنت سعادت احمد مرحوم ربوہ میں میٹرک سرگودھا بورڈ میں طالبات میں تیسری پوزیشن حاصل کر کے نقرئی تمغہ انعام سوم حاصل کیا۔(3) سلمی بنت خورشید عالم (چکلالہ) نے پشاور یونیورسٹی ایم ایس سی فزکس میں طلباء و طالبات میں اول پوزیشن حاصل کر کے طلائی تمغہ انعام اوّل حاصل کیا۔(4) امتہ الجمیل سمیع بنت ڈاکٹر عبد اسمیع (کوئٹہ) نے بلوچستان یونیورسٹی سے بی ایس سی پری میڈیکل کے امتحان میں طلبا اور طالبات میں اول آکر تمغہ انعام اول حاصل کیا۔