محسنات — Page 73
73 عربی کا امتحان نمایاں طور پر پاس کر لیا۔اپنی تعلیم کے دوران اپنی اکلوتی بیٹی صاحبزادی امتہ المتین صاحبہ کو اپنی والدہ محترمہ کے پاس رکھا۔مکر مہ محترمہ امتہ السمیع صاحبہ بیگم مکرم مرزار فیع احمد صاحب نے مجھ سے بیان فرمایا کہ میں اور امتہ المتین نہ صرف ہم عمر ہیں اور ایک ہی جگہ بچپن کے ابتدائی سال گزارے بلکہ ہم دونوں رضاعی بہنیں بھی ہیں۔گویا آپ نے تکمیل تعلیم کو بیٹی کی تربیت پر ترجیح دی۔علاوہ ازیں آپ کو حضرت فضل عمر کی تمیں سالہ رفاقت میں خصوصی تربیت کے سنہری مواقع بھی حاصل ہوئے۔حضور نے آپ کی دینی تربیت کے لئے مختلف اوقات میں قرآن مجید کے مختلف حصوں کے درس گھر میں دیئے اس طرح حضرت مصلح موعود سے بالمشافہ قرآن مجید سیکھنے کا موقعہ آپ کو میسر آیا۔حضور اقدس نے اکثر اوقات اپنی تصنیفات تحریر فرماتے وقت حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ سے حوالہ جات کی کتب تلاش کر کے اُن میں سے حوالہ جات نکالنے کا کام آپ کے سپر دفرمایا جسے آپ نے بڑی مہارت اور خوبی سے سرانجام دیا۔فن تقریر میں بھی آپ کو ممتاز مقام حاصل رہا ہے۔آپ نے 1940ء میں جلسہ سالانہ میں پہلی تقریر فرمائی جو نہایت عمدہ تھی۔یہ سلسلہ تقاریر 1940ء سے لے کر 1997 ء تک اپنی صحت مندی کے زمانہ میں جاری رہا۔آپ کی تقاریر نہایت ٹھوس پُر معارف اور رواں ہوتیں۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ اُس کے رسول اور مسیح پاک علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں نہایت دلنشیں نصائح فرماتی تھیں۔خلفائے وقت کی تحریکات اور خطبات کی روشنی میں لجنہ کو مفید اور ٹھوس لائحہ عمل مہیا فرما کر اُن کی رہنمائی میں کوشاں رہیں اس طرح احترام خلافت کو دلوں میں جاگزیں کیا۔فی البدیہہ تقریر کا بھی نہایت اعلیٰ ملکہ رکھتی تھیں اور موقع کے مطابق بڑے موثر رنگ میں خطاب فرماتی رہیں۔آپ کی علمی صلاحیتوں کے پیش نظر حضرت خلیقہ امسیح الثانی نے آپ کو