محسنات — Page 72
72 تھیں۔انہوں نے قرآن کریم ایک حافظ سے پڑھا تھا۔اس لئے ط، ق خوب بلکہ ضرورت سے زیادہ زور سے ادا کرتی تھیں۔علمی باتیں نہ کر سکتیں تھیں مگر علمی باتوں کا مزہ خوب لیتی تھیں جمعہ کے دن اگر کسی خاص مضمون پر خطبہ کا موقع ہوتا تھا تو واپسی میں میں اس یقین کے ساتھ گھر میں گھستا تھا کہ مریم کا چہرہ چمک رہا ہوگا اور وہ جاتے ہی تعریفوں کے پل باندھ دیں گی اور کہیں گی کہ آج بہت مزہ آیا اور میرا قیاس شاذ ہی غلط ہوتا تھا۔میں دروازے پر انہیں منتظر پا تا اور خوشی سے ان کے جسم کے اندر ایک تھر تھراہٹ پیدا ہو رہی ہوتی تھی۔“ (سیرت سیدہ اُمّم طاہر صفحہ 282) حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل " صاحب آپ کی تمام بیٹیوں میں سے ہونہار ترین اور نہایت درجہ ذہین دختر تھیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو علمی و دینی لحاظ سے انتہائی ممتاز مقام عطا فرمایا تھا۔آپ کا تعلیمی ریکارڈ نہایت اعلیٰ رہا۔میٹرک کا امتحان نصرت گرلز اسکول قادیان سے دیا اور اول پوزیشن میں یہ امتحان پاس کیا۔دینیات کی اعلیٰ ترین سند علیمہ بھی حاصل کی۔علاوہ ازیں 1941ء میں نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے منعقدہ امتحان میں 82/100 نمبر لے کر تمام مردوں اور عورتوں میں اول رہیں۔30 ستمبر 1935ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے عقد میں آئیں۔اپنی ذہنی صلاحیت اور سُوجھ بوجھ کی وجہ سے اس عظیم ترین ذمہ داری کو بحسن و خوبی نبھا کر آپ نے حضرت مصلح موعود کے علمی بوجھ کو کسی حد تک ہلکا کر دیا۔مثلاً 1957 ء میں جب حضرت مصلح موعود تفسیر صغیر کی تصنیف فرما رہے تھے تو حضور نے سیدہ موصوفہ کو قرآن مجید کے بیشتر حصہ کا ترجمہ لکھوایا اور تفسیر صغیر کا ترجمہ اور حواشی کے مختصر نوٹس تحریر کرنے کی سعادت بھی آپ کے حصہ میں آئی۔آپ نے اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی پرائیویٹ طور پر جاری رکھا حتی کہ ایم۔اے