محسنات — Page 71
71 خرچ کرتیں۔نہایت کم گو تھیں۔اور بہت علم دوست تھیں ہر ایک سے جو علم میں ترقی کا شائق ہوتا محبت کرتیں اور مزید ترقی کی طرف حوصلہ افزائی فرماتیں۔غرض حضرت سیدہ صاحبہ کی زندگی ایک مجاہدہ کی زندگی تھی کیونکہ آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ تحصیل علم میں گزارا جبکہ اس کے پیچھے کوئی دنیوی نفع یا ذاتی غرض پوشیدہ نہ تھی محض رضائے الہی اور خدمت بنی نوع انسان مد نظر تھی۔سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو شخص علم حاصل کرتا ہوا وفات پا جائے وہ شہید ہے اس طرح حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ نے فنانی اعلم ہو کر شہادت کا درجہ پالیا۔آپ نہایت پاک باطن اور نیک خو تھیں۔قرآنی حکم کے مطابق مسابقت الی الخیر میں ہمیشہ کوشاں رہتیں۔آپ کو زیادہ علمی کام کا موقع نہیں ملا اس لئے کہ نو جوانی میں فوت ہو گئیں۔جبکہ ابھی تعلیم کا سلسلہ جاری تھا۔اگر چہ آپ کی عمر نے وفا نہ کی تاہم آپ کچھ عرصہ لجنہ کی جنرل سیکریٹری رہیں اور لجنہ کی تنظیم اور اُن کی تعلیمی اسکیم کے لئے کوشاں رہیں۔اللہ تعالیٰ آپ پر رحمتوں کی بارش کرے۔آمین (ماخوذ از مصباح اگست د ستمبر 1934 ء صفحه 50-51) حضرت سیدہ مریم بیگم (ام طاہر ) کے بارے میں اُن کے جلیل القدر شوہر حضرت مصلح موعود نے ”میری مریم “ کے عنوان سے ایک مضمون رقم فرمایا تھا۔جو اُن کی وفات کے بعد الفضل 12 جولائی 1944ء میں شائع ہوا تھا یہ مضمون اُن کی سیرۃ طیبہ پر نہایت خوبصورتی سے روشنی ڈالتا ہے۔دین سے آپ کی محبت اور آپ کی علمی وادبی جمالیاتی حس کا ذکر آپ نے ان الفاظ میں فرمایا۔" مریم کو احمدیت پر سچا ایمان تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر قربان تھیں۔ان کو قرآن کریم سے محبت تھی اور اس کی تلاوت نہایت خوش الحانی سے کرتی