محسنات

by Other Authors

Page 35 of 286

محسنات — Page 35

35 ہیں کہ عین اُسی وقت اور دن کے مطابق میرے والد صاحب نے بڑے سکون اور اطمینان سے جان دے دی اور تین بجے علی اصبح ہم والد صاحب کا جنازہ لے کر روانہ ہوئے۔“ ( میری والدہ صفحہ 56) اُن کا اللہ تعالی سے براہِ راست تعلق تھا اور اِنِّی قَریب“ کی آوازیں اُن کے کان میں آتی تھیں جن سے اُن کا ایمان وایقان مضبوط تر ہوتا گیا۔اللہ تبارک وتعالیٰ کی اُس پیاری بندی کو طبقہ نسواں میں ایک ایسا مقام حاصل ہوا جسے قارئین حیرت زدہ ہو کر دیکھتے ہیں اور دیکھتے رہیں گے۔حضرت مصلح موعود کا خراج تحسین : حضرت فضل عمر نے جو عبارت مرحومہ کے کتبے پر لکھے جانے کا ارشاد فرمایا وہ اعلیٰ درجہ کا تحسین ہے۔وہ عبارت یہ ہے:۔وو چودہری نصر اللہ خان صاحب مرحوم کی زوجہ عزیزم ظفر اللہ خان صاحب سلمہ اللہ کی والدہ صاحبہ کشف و رویا تھیں۔رؤیا ہی کے ذریعہ سے حضرت مسیح پاک کی شناخت نصیب ہوئی اور اپنے مرحوم شوہر سے پہلے بیعت کی۔پھر رویا ہی کے ذریعے سے خلافت ثانیہ کی شناخت کی اور مرحوم خاوند سے پہلے بیعت خلافت کی۔دین کی غیرت بدرجۂ کمال تھی اور کلامِ حق کے پہنچانے میں نڈر تھیں۔غرباء کی خبر گیری کی صفت سے متصف اور غریبانہ زندگی بسر کرنے کی عادی، نیک بیوی اور وَدُود والدہ تھیں۔اللہ تعالیٰ انہیں اور اُن کے شوہر کو جو نہایت مؤدب و مخلص خادم سلسلہ تھے اپنے انعامات سے حصہ دے اور