محسنات — Page 34
34 کیونکہ یہ اُن کے روزانہ مشاہدہ کی بات تھی۔۔" یہ وہ خاتون تھیں جن کی عظمت کا اقرار اپنوں اور غیروں ، چھوٹوں اور بڑوں نے برملا کیا حتی کہ حضرت مسیح پاک کے صاحب عظمت و شکوہ فرزند نے بھی ان تعریفی الفاظ سے نوازہ اس اللہ کی پیاری بندی نے اپنے لخت جگر (حضرت ظفر اللہ خان صاحب) کے لئے جن کو وہ ٹوٹ کر پیار کرتی تھیں نہ جانے کیسی کیسی دلسوزی کے ساتھ دعائیں کی ہوں گی جو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا بلند مرتبہ عطا فر مایا اور دینی و دنیاوی سعادتوں سے سرفراز کیا کہ انہوں نے اپنے علم و حکمت کے زور سے سب کا منہ بند کر دیا۔“ ( میری والدہ صفحہ 125) اُن کے خواب روزِ روشن کی طرح واضح ہوتے تھے جو من وعن پورے بھی ہو جاتے تھے۔چوہدری صاحب کے والد صاحب کی آخری بیماری میں اُن کی وفات کے بارے میں چند خواب ” میری والدہ میں مذکور ہیں جو معین رنگ میں لفظ بلفظ پورے ہوئے۔مثلاً اُنہوں نے خواب میں چوہدری نصر اللہ خان صاحب ( والد چوہدری ظفر اللہ خان صاحب) کو فرماتے ہوئے دیکھا کہ ”میاں مجھے تو جمعہ کے دن چھٹی ہوگی مکرمہ حسین بی بی صاحبہ نے فرمایا کہ چھٹی کے لفظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کا دن شروع ہوتے ہی رُخصت ہو جائیں گے اس لئے ڈاکٹر خواہ کچھ کہیں تم ابھی سے انتظام کرلو ( یہ تاکید اپنے بیٹے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو کی ) اور جمعرات کی شام تک تمام تیاری مکمل کر لو تا کہ اُن کے رخصت ہوتے ہی ہم انہیں قادیان لے چلیں۔اپنے بہن بھائیوں کو اطلاع کر دو۔والد کے کفن کی چادر میں منگوالو۔صندوق بھی جمعرات کی شام تک تیار کرنے کی تاکید کر دو۔موٹریں کرایہ پر لے لو اور انہیں ہدایت دے دو کہ نصف شب کے بعد آ جائیں۔میں نے اُن کی ہدایت کے مطابق سب انتظام کر دیا۔پھر چوہدری صاحب رقم طراز