محسنات

by Other Authors

Page 257 of 286

محسنات — Page 257

257 البدل عطا کرے تا کہ ان دکھے دلوں کی تسکین اور راحت کا سامان پیدا ہو۔“ (سیرت حضرت سیّدہ ام طاہر صفحہ 260-259) حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ فرماتی ہیں:۔ایک مرتبہ غرباء کے لحاف بننے میں دیر ہو گئی حضور نے فرمایا اس قدرلحاف تین دن میں تیار ہو جا ئیں میں برداشت نہیں کر سکتا کہ مزید لحافوں کی تیاری میں تاخیر ہواور اللہ کی مخلوق کو سردی سے دو چار ہونا پڑے اور یہ کام اب آپ ( یعنی پھوپھی جان حضرت سیّدہ ام طاہر صاحبہ ) کے سپر دکرتا ہوں۔مجھے خوب یاد ہے کہ رات رات بھر جاگ کر اور سارا سارا دن لگ کر جس میں کھانے پینے اور آرام کا خیال بھی نہ رکھا گیا آپ نے کام ختم کیا اور ٹھیک تیسرے دن ڈھیروں لحاف تیار کر کے حضور کی خدمت میں پیش کر دئیے اور خود اپنا یہ حال تھا کہ شدید بیمار ہوگئیں کیونکہ عملی طور پر آپ نے کام میں زیادہ حصہ لیا اور یہ احساس آپ کو تڑپا گیا کہ اب تک غرباء کے لئے سردی سے بچاؤ کا انتظام نہیں ہو سکا۔طبیعت میں ذرہ بھر نمائش و نمود کا نام نہیں تھا۔سب کچھ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کیا کرتیں استی اسی نوے توے مشینیں رکھے خود بھی غرباء کے لئے کپڑے سینا اور خدمتِ خلق اور سلسلہ کی خدمت کا جذبہ رکھنے والی خواتین سے ذوق وشوق سے بلا اُجرت کام کروانا آپ کے حسنِ اخلاق کی شاندار دلیل ہے۔(سیرت حضرت سیّدہ ام طاہر خلاصہ صفحہ 176-175) مکرمہ حضرت سیّدہ ام داؤ د صاحبہ نے خدمتِ خلق کے میدان میں جو نا قابل فراموش اور بے مثال خدمات سرانجام دی ہیں۔وہ تاریخ احمدیت میں ہمیشہ یادگار رہیں گی۔جلسہ سالانہ کے موقع پر مستورات میں مہمان نوازی کے فرائض 1922ء سے 1951 ء تک مسلسل ادا کرتی رہیں۔