محسنات — Page 258
258 ایک شفیق ماں کی طرح دار الشیوخ کے نادار بچوں کو ہر ممکن آرام پہنچانے کی کوشش کرتیں۔عید کے موقع پر کپڑے سلوانے ،سردیوں میں رضائیاں تیار کرنے میں خاصی دلچسپی سے کام لیتیں۔حضرت میر صاحب اپنی تنخواہ کا زیادہ حصہ ان یتیموں، غریبوں اور بیوگان کی ضروریات پر خرچ کر دیتے تو آپ نے کبھی شکایت نہ کی کیونکہ آپ کو بھی طبعاً اُن غرباء، یتامی اور بیوگان کی حاجت روائی پسند تھی۔آپ کا دامن بہت سی نیکیوں سے معمور تھا۔اور نیکی کے کاموں میں اپنے خاوند کا ہمیشہ ساتھ دیتیں۔آپ کے گھر میں ہمیشہ دو تین یتیم اور نادار بچے ضرور ہوتے جن کی ہر قسم کی ضروریات آپ پوری کرتیں آپ انہیں اپنے بچوں کے ساتھ پڑھاتیں۔کوشش کرتیں کہ انہیں اپنے ماں باپ کی کمی محسوس نہ ہو۔بعض آپ کو امی جان کہہ کر پکارتے۔آپ کوئی دل شکنی کی بات نہ ہونے دیتیں۔جب پہلے بچے بڑے ہو جاتے تو اور بیچے آجاتے اور یہ سلسلہ جاری رہتا آپ بہت سادہ زندگی بسر کر نیوالی صابر و شاکر خاتون تھیں۔ہر اول دستہ خلاصہ صفحہ 86-87) خدمت خلق لجنہ اما اللہ کا ایک نمایاں وصف ہے۔ابتدائی احمدی خواتین نے خدمت خلق کی مثالیں قائم کی ہیں ان نمایاں خواتین میں مکرمہ محترمہ اُستانی میمونہ صوفیہ صاحبہ اہلیہ مولوی غلام محمد صاحب بھی تھیں۔اگر آپ کو معلوم ہو جاتا کہ کوئی ضرورت مند ہے تو آپ صاحب استطاعت لوگوں کو تحریک کر کے مالی اعانت حاصل کرتیں اور غرباء کی ضروریات پوری کرتیں۔عید کے موقع پر غرباء کے لئے کپڑے بنوانے اور سردیوں میں لحاف تیار کروانے کے لئے کپڑے کی خریداری کی ذمہ داری آپ پر ہوتی۔جسے باحسن ادا کرتی رہیں اور جب تک ہمت رہی یہ کام پوری بشاشت سے کرتی رہیں۔( ہر اول دسته صفحه 111) حضرت مصلح موعود کی صاحبزادی مکرمه و محترمہ صاحبزادی ناصره بیگم صاحبہ نے صدر لجنہ ربوہ کی گوناگوں مصروفیات کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کے