محسنات — Page 250
250 خربوزے خرید کر اُس سے کچھ نفع کما لے۔وہ خربوزوں کی ٹوکری خرید کر آپ ہی کے ہاں لے آتی۔۔۔گرمیوں کے دن ہوتے تھکی ماندی وہ آتی۔اس کو دیکھ کر فرمایا کرتی تھیں کہ اب اس گرمی میں اِن کو بیچنے کہاں جائے گی۔خود ہی خرید لیتیں اور خربوزے آس پاس کے لوگوں میں تقسیم کروا دتیں۔سید نا حضرت خلیفہ نورالدین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میرا نام آسمان پر عبدالباسط ہے اور باسط اس کو کہتے ہیں جو فراخی سے دینے والا ہو۔آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے فکر کر دیا گیا تھا۔اور یہ یقین دہانی فرما دی گئی تھی کہ وہ آپ کی ضرورتوں کے پیدا ہونے سے پہلے ان کے پورا ہونے کے سامان پیدا فرما دیا کرے گا اور بعینہ اسی طرح ہوتا رہا۔اس کی جھلک ہمیں ”حضرت اماں جی کی زندگی میں بھی نظر آتی ہے وہ کبھی اس بارے میں فکر مند ہوتی نظر نہ آتیں۔نہ انہیں روپیہ جمع کرتے دیکھا گیا۔جو رقم بھی آتی خواہ وہ ہزاروں میں کیوں نہ ہو جلد از جلد اُسے خرچ کر دیتیں اور یہ غریبوں، مہمانوں اور دوستوں پر خرچ ہوتا اپنے آرام و آسائش پر نہ ہوتا۔جب بھی انہیں کوئی تحفہ، نذرانہ نقدی یا ملبوسات کی شکل میں ملتا وہ اسے تیموں اور غریبوں میں تقسیم کر دیتیں۔جب یہ عرض کیا جاتا کہ یہ تو آپ کے علاج اور استعمال کے لئے تھا تو فرماتیں تم اپنی خوشی پوری کرنے کے لئے مجھے دیتے ہو۔میں اپنی خوشی پوری کر لیتی ہوں۔اُن کی کوئی ایسی خواہش نہ تھی جو پوری نہ ہوئی ہو۔کوئی حاجت ایسی نہ تھی جس کے پورا ہونے کا سامان اُس ضرورت کے پیدا ہونے سے پہلے حضرت نورالدین کے باسط خدا نے آپ کے لئے فراہم نہ کر دیئے ہوں۔آخری ایام میں جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی کوئی خواہش ہو تو بتا دیں۔تو جواب دیا کوئی خواہش نہیں۔بس اب تو اپنے اللہ سے ملنا ہے۔ایک اور موقع پر جواب دیا کوئی خواہش نہیں بس ایک یتیم بچی ہے جو میرے پاس رہتی ہے۔