محسنات — Page 249
249 اپنے ہاتھ سے رضائی کی مرمت کرنا۔سوم : جذ بہ خدمت خلق ہی تھا کہ ایک غریب الدیار طالبعلم کی چیکٹ بھری رضائی کو مرمت کیا اور صاف کیا۔چہارم : جب تک عجز وانکسار اور ایثار نہ ہو ایسا کام ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔حضرت سیدہ صغری بیگم صاحبہ حرم حضرت سیدنا مولانا نورالدین صاحب خلیفتہ المسیح الاوّل جماعت احمدیہ میں احتراما اماں جی کے لقب سے پہچانی جاتی ہیں۔آپ حضرت صوفی احمد جان صاحب جیسے متوکل با خدا بزرگ کی صاحبزادی تھیں آپ کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود اپنے محت خاص کی زوجیت کے لئے منتخب فرمایا۔حضور اقدس حضرت اماں جان کے ہمراہ بنفس نفیس بارات میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے۔علاوہ ازیں حضرت اماں جی کو یہ فضلیت بھی حاصل تھی کہ حضرت فضل عمر جیسے جلیل القدر انسان کو آپ کا داماد بنا دیا۔نیز آپ کو یہ اعزاز بھی عطا فر مایا کہ حضرت مسیح موعود کے دست مبارک پر آپ کو سلسلہ احمدیہ میں شمولیت کا شرف ” خواتین میں سب سے پہلے حاصل ہوا۔اور آپ ہی کا آبائی گھر دارالبیعت، قرار پایا۔خدمت خلق کے سلسلہ میں مصباح کے مضمون کے چند اقتباس پیش خدمت ہیں :- نادار اور یتیم بچوں کی پرورش آپ کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ایسی دلداری۔اور دلجوئی کے انداز میں ان کی پرورش فرماتیں کہ انہیں اپنی کم مائیگی اور بے کسی کا احساس تک نہ ہونے دیتیں۔اُن کو اپنے سامنے اپنے بچوں کے ساتھ بٹھا کر کھلاتیں پلاتیں اور بشاشت اور خود اعتمادی کا احساس ان کے اندر بیدار کرتیں۔بہت سی مستحق اور قابل امداد عورتیں مستقل طور پر اُن کے ہاں رہتیں اور ویسے آپ کے ہاں آنے جانے والی عورتوں کا تو کوئی شمار ہی نہ تھا۔آپ کی امداد کا رنگ بھی عجب دلکش ہوتا ایک ضعیف العمر خاتون کو متعدد بار بطور امداد کچھ رقم دی کہ