محسنات

by Other Authors

Page 237 of 286

محسنات — Page 237

237 امتہ الکافی لکھتی ہیں :- بچپن کے دور کو یاد کرتی ہوں لمحہ لمحہ آنکھوں کے سامنے آتا ہے کہ غلط بات کریں تو کس قدرسختی سے اصلاح کی طرف مائل رہتی تھیں اور جو نہی عمروں کے ایسے دور میں داخل ہوئے کہ عام طور پر اولاد سمجھدار یا سیانی ہو جاتی ہے وہاں نرمی کا بہتا ہوا دریا بن گئیں کبھی کسی بڑے کی برائی یا برے رنگ میں ذکر نہ کیا اور خاص طور پر خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواتین مبارکہ اور بزرگوں کا احترام کرتیں اور مجال نہیں تھی کہ کوئی بات اُن کے بارے میں کسی سے سُننا بھی گوارا کریں۔بچوں کے ہمیشہ سچ بولنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ جھوٹ بولنے کی سزا بڑی ہی شدید ہوا کرتی تاکہ جھوٹ کا خوف اور رعب نہ رہے۔جو بات امی نے ہمیں نہ بتانی ہوتی تو آرام سے کہہ دیتیں کہ یہ نہیں بتاؤں گی لیکن جھوٹ کبھی نہ بولتے سنا اور نہ ہی ہمیں ایسا کرتے ہوئے برداشت کیا فضول مشاغل یا وقت کا ضیاع۔ان باتوں پر بہت روکتیں۔۔اولاد کی تربیت میں امی نے ہمارے لئے کس قدر مجاہدہ کیا تھا اور کتنی دعائیں کی تھیں۔ہمیں ہمارے بچوں کے لئے دعائیں کرنی سکھائیں۔(مصباح ستمبر 1997 ء صفحہ 17) آپ نے اپنے دونوں بیٹوں کو خدمت دین کے لئے وقف کر دیا تھا اور بہترین تربیت کے بعد سلسلہ کے بہترین خادم بنانے کا سہرا آپ ہی کے سر پر ہے۔پھر یہ کوشش بھی کی کہ اپنی تینوں بیٹیوں کو بھی واقفین زندگی کے ساتھ بیا ہیں اس طرح