محسنات — Page 238
238 پر وہ جو کہ اپنی زندگی کی ہر سانس خدمت دین کے لئے وقف کر چکی تھیں اپنی اولا د کی ذہنی تربیت اس رنگ میں کی کہ آئندہ وہ بھی دین کی خدمت کو اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم سمجھ کر خلوص اور محبت سے اپنے سر تسلیم خم کر دیں واقعی قابل رشک ہیں ایسی مائیں جو اپنی نیکی تقوی اور قربانی کی خصوصیات کو اس خوبصورتی سے منتقل کرتی ہیں کہ اگلی نسلیں اُن کی جگہ لے کر سلسلۂ خدمت کو بہتر سے بہترین کی طرف لے جاتیں ہیں۔مکرمہ امتہ الباری ناصر صاحبہ نے اس صورت حال کو اس طرح شعروں کی صورت میں ڈھالا ہے:- (بزبان حسین احمد صاحب) مجھ کو جس ماں نے کیا وقف یہ حق ہے اُس کا بوند بوند اپنا لہو دین پر قربان کروں ایسا کچھ ہو سکے مجھ سے جو خدا راضی ہو اُن کے درجوں کی بلندی کے میں سامان کروں مکرمه و محترمہ صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ اہلیہ صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب کی اپنے بیٹے مرزا غلام قادر کو دین کی راہ میں وقف کرنے کی خواہش کے ساتھ ساتھ یقیناً اُن کی نیک تربیت کا بھی بہت بڑا ہاتھ تھا۔بچے کی ابتدائی تربیت میں زیادہ تر ماں ہی کا حصہ ہوتا ہے اس لئے کہ وہ چوبیس گھنٹے بچے کی نگہداشت کرتی ہے اور ایک ایک لمحہ اس کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔مکر مہ محترمہ قدسیہ بیگم صاحبہ لھتی ہیں:- ایبٹ آباد پبلک اسکول میں جاتے ہی اس کو فکر تھی کہ الفضل اور تشید لگوادیں۔1974ء میں بارہ سال کی عمر میں گیا تھا۔دوسرے خط میں پھر۔تاکید سے لکھتا ہے کہ الفضل اور تشخیز بھیجواد میں اس چیز کی فکر نہ کریں کہ ہم نماز وغیرہ نہیں پڑھتے ، پڑھتے ہیں اُسے پورا احساس تھا کہ میں خاندان اور ماں باپ