محسنات — Page 187
187 ایک شاندار مثال پیش کی یہ پاکباز خاتون حضرت محمودہ بیگم حرم اول حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد تھیں۔اُن کی اس یاد گار قربانی کو حضرت مصلح موعود نے یوں بیان فرمایا:- خدائے تعالیٰ نے میری بیوی کے دل میں اسی طرح تحریک کی جس طرح حضرت خدیجہ کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کی تحریک کی تھی۔اُنہوں نے اس امر کو جانتے ہوئے کہ اخبار میں روپیہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے کنویں میں پھینک دینا اور خصوصاً اس اخبار میں جس کا جاری کرنے والا محمود ہو جو اُس زمانہ میں شاید سب سے زیادہ مذموم تھا اپنے دوز یور مجھے دے دیئے کہ میں اُن کو فروخت کر کے اخبار جاری کر دوں ان میں سے ایک تو اُن کے اپنے کڑے تھے دوسرے اُن کے بچپن کے کڑے تھے جو انہوں نے اپنی اور میری لڑکی ناصرہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ کے استعمال کے لئے رکھے ہوئے تھے۔میں زیورات کو لے کر اُسی وقت لا ہور گیا اور پونے پانچ سو کے وہ دو کڑے فروخت ہوئے یہ ابتدائی سرمایہ الفضل کا تھا۔الفضل اپنے ساتھ میری بے بسی کی حالت اور میری بیوی کی قربانی کو تازہ رکھے گا۔کیا ہی سچی بات ہے کہ عورت ایک خاموش کارکن ہوتی ہے۔اس کی مثال اس گلاب کے پھول کی سی ہے جس سے عطر تیار کیا جاتا ہے۔لوگ اُس دوکان کو تو یا در کھتے ہیں جہاں سے عطر خریدتے ہیں لیکن اُس گلاب کا کسی کو خیال بھی نہیں آتا جس نے مر کر اُن کی خوشی کا سامان پیدا کیا۔میں حیران ہوتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ یہ سامان پیدانہ کرتا تو میں کیا کرتا اور میرے لئے خدمت کا کون سا دروازہ کھولا جاتا“۔تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد 1 صفحہ 16) حضرت سیدہ امة الحفیظ بیگم نام ونمود کی خواہاں کبھی بھی نہیں تھیں اور نیکی کے کاموں میں بالعموم اخفاء ان کی عادت تھی اس طرح قربانیوں ،صدقہ و خیرات کا بھی یہی معاملہ تھا لیکن مالی قربانیوں کی تحریکات میں سیدہ موصوفہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔