محسنات — Page 186
186 کے نام منارہ اسیح پر کندہ کروانے کا اعلان فرمایا تھا لہذا مردوں کے دوش بدوش عورتیں بھی اس میں شرکت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم کے علاوہ محترمه حسین بی بی والدہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اور عزیز بیگم اہلیہ خان صاحب منشی برکت علی صاحب شملوی کے نام بھی منارۃ ایح پر کندہ ہیں۔1898ء کے شروع میں ایک مرتبہ بعض اہم دینی ضروریات کے لئے رقم کی ضرورت پڑی تو حضرت اماں جان سیدہ نصرت جہاں بیگم نے فرمایا با ہر سے قرضہ لینے کی کیا ضرورت ہے میرے پاس ایک ہزار نقد ہے اور کچھ زیورات ہیں وہ آپ لے لیں تو آپ نے فرمایا میں بطور قرضہ لیتا ہوں اور اس کے عوض باغ کی زمین رہن رکھ دیتا ہوں یہ صرف جماعت کو سبق سکھانے کے لئے تھا کہ بیویوں کا مال اُن کا اپنا مال ہوتا ہے (اسی لئے آپ نے اپنی بیگم سے رقم تو لی مگر بطور قرضه ( سیرت حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہ از یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه 528) اپنی اہلیہ محترمہ کی بے مثال قربانی کو دیکھتے ہوئے حضور اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں اس بر وقت امداد کو سراہا وہاں پر ایک شرعی مسئلہ ( یعنی بیویوں کا مال بیویوں کا ہی ہوتا ہے ) بھی تمام مردوں کے لئے واضح کر دیا۔یہی دینی تربیت قدم قدم پر افراد جماعت کی راہ نما بنی اور ( دین حق ) کی صحیح اور سچی تعلیم سے جماعت اور خلافت اولیٰ میں خواتین کی مالی قربانیوں کا سلسلہ جاری رہا اور اُن کے ایمان اور خلوص میں وقت کے ساتھ توسیع اور اضافہ ہوتا چلا گیا۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے حضرت مولانا نورالدین خلیفہ المسیح الاوّل کے زمانے میں جماعت کے ایک اخبار کے اجراء کی تجویز پیش کی جو منظور تو ہو گئی لیکن اُن دنوں مالی حالت اس قدر کمزور تھی کہ اس تجویز کو عملی جامہ پہنانا ناممکن نظر آتا تھا۔لیکن آفرین ہے ایک احمدی خاتون کے جذبہ قربانی کو جس نے رہتی دنیا تک