محسنات

by Other Authors

Page 181 of 286

محسنات — Page 181

181 ضمناً میں عرض کر دوں کہ بابر کی وفات پر میں نے کوئی غیر معمولی آہ و بکا نہیں کی۔اللہ نے مجھے ہمت دی اور ایک بھی لفظ بے صبری یا شکوہ کا میرے منہ سے نہیں نکلا۔نہ میں نے حواس کھوئے۔نہ آواز بلند کی۔میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں (قربان) ہونے والے کی بیوہ ہوں۔یہ میرا اعزاز ہے۔میں اللہ کی اس رحمت کو کیوں رسوا کرتی؟ یہ سب میرے اُو پر میرے رب کا فضل تھا ورنہ میں کیا کر سکتی تھی۔اب میں اُس عظیم معجزے کی وضاحت کروں گی جو مجھ پر بابر کی وفات کے بعد گذرا۔۔۔۔۔۔۔عجیب بات ہے چند سال سے مجھے یہ احساس رہنے لگا تھا کہ خدا تعالیٰ کے مجھ پر بے شمار احسانات ہیں۔ہر خواہش زبان پر آنے سے پہلے پوری ہو جاتی ہے۔دل میں جیسے کوئی حسرت ہی نہیں تھی۔نماز پڑھتی تھی کہ سب دوسروں کے لئے مانگتی ہوں لیکن اپنے لئے کیا مانگوں؟ پھر یہ عادت بن گئی کہ نماز میں دو دعائیں لازم ہوتی تھیں کہ خدایا بابر کو میری زندگی میں ہمیشہ سلامت رکھنا اور اے اللہ اگر آزمائش آئے تو اس میں سے گذرنے کی ہمت دینا۔اب سوچتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ دونوں ہی دعائیں پوری ہوگئیں۔خدا نے بابر کو وفات دے کر بھی زندہ رکھا اور آزمائش کو بڑی کڑی تھی۔لیکن خدا نے اس میں سے اس طرح گزارا کہ میں اُس کی رحمتوں کی پہلے سے زیادہ شکر گزار ہوگئی۔میرے عزیز اور باقی احباب میرے صبر کو سراہتے ہیں۔ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے کچھ دنوں کے بعد مجھے آ کر کہا ”میں آپ کے حوصلے کو سلام کرتا ہوں۔ان تمام باتوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔میں دل ہی دل میں اپنے مولا سے کہتی ہوں۔واہ مولا ! میرے مولا ! کمال تو تیرا ہے اور اعزاز مجھے مل رہا ہے۔یقیناً یہ تمام احساسات خدا ہی کے پیدا کردہ تھے جو مجھے ایک ع