محسنات — Page 177
177 باری تعالیٰ اتنی جلدی ! تین چار سال تو ہمیں خدمت کا موقع دیا ہوتا۔اللہ نے ہی پھر حفاظت فرمائی اور وہ خط بے اثر ہو گیا۔محترمه خورشید بیگم صاحبہ اہلیہ محمد زمان صاحب لکھتی ہیں کہ میں نے احمدیت کی راہ میں شروع سے بہت تکلیفیں اٹھائی ہیں۔بہت ظلم برداشت کئے ہیں۔ہماری رہائش چنیوٹ میں تھی۔ایک دفعہ جلوس کی شکل میں مخالفین اکٹھے ہو کر آ گئے اور گھر کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ہمسایوں نے بڑی بہادری سے ہمارا دفاع کیا اور اللہ نے ہمیں اپنے فضل سے محفوظ رکھا۔حضور فرماتے ہیں:- میں دیکھ رہا ہوں کہ آئندہ چند سالوں میں عظیم انقلاب رونما ہونے شروع ہو جائیں گے اور ملکوں کے ملک اور قوموں کی قومیں انشاء اللہ احمدیت میں داخل ہوں گی لیکن آپ یا درکھیں کہ یہ ساری باتیں اُن احمدی مظلوموں کی آہوں کا شمرہ ہیں، اُن مارکھانے والے بچوں کی بلکتی دعاؤں کا ثمرہ ہیں ، اُن سسکیوں کا ثمرہ ہیں جو ماؤں نے لیں جو اپنے بچوں اور بچیوں کے زخمی ہاتھوں کو دیکھ کر کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ہم بھول سکتے ہیں ان باتوں کو اور بسا اوقات تو میں اپنی ایسی دردناک تاریخ کو بھلا بھی دیا کرتی ہیں مگر خدا نہیں بھولتا۔اُس کی قربانی کرنے والے کی ایک ایک ادا پر نظر ہوتی ہے اُس کی ایک ایک سانس کی قیمت ادا کرتا ہے۔ہر دُکھ کے بدلے احسانات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔پس اب جو فضل جماعت پر ہورہے ہیں اور یہاں آنے کے بعد جو آپ لوگوں کی کایا پلٹی ہے تو ہمیشہ ان مظلوموں کو اپنی دعاؤں میں یا درکھیں جنہوں نے عظیم قربانیاں پیش کیں مگر اپنے ایمان کو بچایا اور راہ صداقت پر ثابت قدم رہے ان عورتوں کی قربانیاں بھی ہمیشہ انشاء اللہ احمدیت کی تاریخ میں زندہ رہیں گی اور اس لائق ہیں کہ زندہ رکھی جائیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ تمام مذاہب کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ جس جگہ