محسنات — Page 176
176 کے! اور میں نے دُعا کی کہ اللہ تعالیٰ یہ توفیق دے کہ میں اپنا پیارا خاوند دین کے لئے پیش کر دوں۔کہتی ہیں ایسی میری یہ دعا قبول ہوئی کہ اُن شدید خطرات کے دنوں میں جبکہ سکھر جانا ہی ایک احمدی کے لئے خطرے کا موجب تھا اُن کے میاں کو سکھر کا امیر مقرر کر دیا گیا اور اُن کو اپناز میندارہ چھوڑ کر سکھر جانا پڑا اور نسیمہ صاحبہ بھی اُن کے ساتھ ہی گئیں۔کیونکہ میں اُس زمانے میں اُن سب لوگوں سے رابطے رکھتا تھا اور میری خدمات میں اولین خدمت ان حادثات سے متاثر ہونے والوں کے لئے وقف تھیں۔اس لئے میں جانتا ہوں۔اُن کے ساتھ میرا مسلسل رابطہ رہا۔بڑے حوصلے سے نسیمہ، اُن کے والد اور لطیف کے والد پھر اُن کے بچوں نے غیر معمولی بہادری اور ہمت سے احمدیت کی خاطر اپنے دوسرے مظلوم بھائیوں کی حفاظت کی اور اُن کے مقدمے لڑے اور اُن کی ضرورتیں پوری کیں اور اللہ تعالیٰ نے پھر اپنے فضل سے اُن کو بھی خطرات سے بچالیا۔ایک دفعہ انہوں نے مجھے لکھا کہ ہمارے گھروں کے او پر موت کے نشان لگ چکے ہیں اور حملہ آور آتے رہتے ہیں اور ہمیں متنبہ کر دیا گیا ہے کہ تمہاری زندگی کے چند دن رہ گئے ہیں اور ساتھ ہی مجھے تسلی دی کہ آپ بالکل مطمئن رہیں۔ہمیں کوئی خطرہ نہیں جو منصب جماعت نے ہمارے سپرد کیا ہے ہم اس پر قائم رہیں گے۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اُن کو منصب پر بھی قائم رکھا اور اُن کی حفاظت بھی کی۔یہ خود بیان کرتی ہیں کہ ایک دن گیٹ پر ایک نامعلوم خط پڑا دیکھا۔ایسے خطوط پہلے گیارہ (قربان راہِ مولا) ہونے والوں کو بھی لکھے گئے تھے۔کہ تو بہ کر لو ور نہ تمہیں فلاں فلاں وقت ختم کر دیا جائے گا اور عین اُسی طرح ہوتا اور وقت مقررہ پر اُن کو ( قربان راہِ مولا ) کر دیا جاتا۔خط دیکھ کر دکھ کی شدت سے میرا جسم کانپ رہا تھا۔میں نے انتہائی گریہ وزاری سے اپنے مولا کے حضور التجا کی کہ