محسنات — Page 136
136 وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔غیر معمولی صابرہ واقف زندگی خاتون: سیدنا حضرت خلیفہ ایح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 13اپریل 1992ء میں اپنی حرم محترمہ کی بیماری کی تفصیل بتانے کے بعد فرمایا :- ان کی نماز جنازہ کے ساتھ میں ایک نماز جنازہ غائب کو بھی شامل کرنا چاہتا ہوں۔وہ ایک ایسی خاتون کی نماز جنازہ ہے جن کے متعلق ایک خاص بات محرک بنی ہمارے چوہدری محمود احمد صاحب چیمہ جو انڈونیشیا میں مستقل طور پر مربی فائز ہوئے ہیں اُن کی بیگم فاطمہ بیگم صاحبہ کو بھی بی بی والا کینسر تھا یعنی پتے کا کینسر جو کینسر میں سب سے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ وہ ایک بہت ہی فدائی اور غیر معمولی صابرہ واقف زندگی عورت تھیں۔خاوند نے وقف کیا۔شادی کے 41 سال کے عرصہ میں سے صرف 11 سال اکٹھے رہنا نصیب ہوا۔اور 30 سال جدا ر ہے اور نہایت غربت کی حالت میں زندگی بسر کی۔شادی کے 41 سال کی ساری عمر کوارٹروں میں بسر کی۔ان کی چار بچیاں ہیں ان کو پڑھانا ، ان کی دیکھ بھال کرنا ، ان کی شادیاں بھی خود ہی کیں۔خاوند تو الگ دنیا میں بسنے والے انسان تھے ان کا اپنی بیوی اور بچیوں کے سود و زیاں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔اور انہوں نے کلیتہ ذمہ داری قبول کی۔بڑی صابرہ ، شاکرہ کسی قسم کا کوئی تصنع نہیں بہت سادہ زندگی سلسلہ کی فدائی، دس سال تک صدر لجنہ بھی رہیں اور قرآن کریم پڑھانے کا بہت شوق تھا۔خود بھی بڑے شوق سے سیکھا۔فاطمہ بیگم صاحبہ کے خاوند نے وقف کیا اور کامل وفا کے ساتھ بیوی نے اپنی