محسنات

by Other Authors

Page 130 of 286

محسنات — Page 130

130 ایک نیک فال کے طور پر حضرت فضل عمر نے بھی 313 مجاہدین پیچھے چھوڑے۔اُن میں سے بہت سے فوت ہو چکے ہیں۔بہت سے زندہ ہیں لیکن اُن کے نام تو ملتے ہیں مگر ان ماؤں اور بیویوں اور بہنوں کے نام نہیں ملتے جنہوں نے ان قربانیوں پر اُن کو اکسایا اور اُن کو قائم رکھا۔اُن کی قربانیوں کی حفاظت کی۔اور خاموشی سے اپنے جذبات کی قربانیاں پیش کرتی رہیں ان میں سے ایک خاتون اہلیہ مستری نور محمد صاحب گنج مغل پورہ تھیں۔اپنے بیٹے محمد طیف امرتسری کو انہوں نے خط لکھا کہ آج قادیان میں رہنا بہت مجاہدہ ہے۔تم نہایت جواں مردی اور استقلال سے حفاظت مرکز کی ڈیوٹی دیتے رہو اور اگر اس راہ میں جان بھی دینی پڑے تو دریغ نہ کرو۔یا درکھو تم پر ہم کبھی خوش ہوں گے جب تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقدس بستی قادیان کی حفاظت میں قربانی کا وہ اعلیٰ درجے کا نمونہ دکھاؤ جو ایک احمدی نوجوان کے شایان شان ہے۔گھبراؤ نہیں۔خدائے تعالیٰ تمہاری مدد کریگا۔ہم تمہارے ماں باپ تمہارے لئے دعائیں کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ تمہیں استقامت بخشے۔پھر خواجہ محد اسمعیل صاحب بمبئی کی بیگم صاحبہ محترمہ حبیبہ نے لکھا کل حضرت خلیفہ اسیح کا ایک مضمون ” جماعت احمدیہ کے امتحان کا وقت الفضل 14 اکتوبر 1947ء میں شائع ہوا ہے۔اپنے خاوند کولکھ رہی ہیں وہ مضمون آپ کو بھیج رہی ہوں گو پہلے بھی میں نے آپ کو قادیان رہنے سے روکا نہیں تھا۔لیکن کل حضور کا مضمون پڑھ کر میں نے سجدے میں گر کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی اے اللہ میں اپنا سارا سرمایہ شرح صدر سے تیرے رسول کی تخت گاہ کی حفاظت کے لئے پیش کرتی ہوں۔محترمہ امۃ اللطیف صاحبہ نے لاہور سے اپنے خاوند مکرم ڈاکٹر محمد احمد صاحب کو ایک خط میں لکھا۔اب میری بھی یہی نصیحت ہے کہ وہاں پر خدا کے بھرو سے