محسنات — Page 123
123 گیا ہے۔کیونکہ وہ بچے ابھی تین تین چار چار سال کے تھے کہ شمس صاحب یورپ تبلیغ کے لئے چلے گئے اور جب واپس آئے تو وہ بچے 18،18،17،17 سال کے ہو چکے تھے۔اب دیکھو یہ اُن کی بیوی کی ہمت اور اس بیوی کی ہمت ہی کا نتیجہ تھا کہ وہ ایک لمبے عرصہ تک تبلیغ کا کام کرتے رہے۔اگر وہ انہیں اپنی در دبھری کہانیاں لکھتی رہتیں تو وہ یا تو خود بھاگ آتے یا سلسلے کو مجبور کرتے کہ انہیں بلا لیا جائے۔یہ بالکل درست تجزیہ ہے۔وہ عورتیں جو اپنے خاوندوں کو درد بھری کہانیاں لکھتی رہتی ہیں اگر ان کے خاوندوں میں انسانیت ہو تو اتنا زبردست دباؤ اُن پر پڑ جاتا ہے۔کہ پھر وہ اس کام کو جاری نہیں رکھ سکتے۔تو وہ تمام مبلغین جنہوں نے سابقہ ایک سو (100) سال میں عظیم خدمتیں سرانجام دیں ہیں ان کے پیچھے بے شمار ان لکھی داستانیں ہیں جو ان کی بیویوں کی قربانیوں کی صورت میں لکھی گئیں۔چند ایک کے تذکرے آپ کے سامنے آئیں گے لیکن اندازہ کریں کہ اُن میں سے ہر ایک نے اتنی قربانیاں دی ہیں اور ہر روز قربانیاں دے رہی ہیں کہ اگر ان کی داستان لکھی جائے تو شاید سالہا سال تک پڑھی جائے تب بھی ختم نہ ہولیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ داستانیں لکھی گئی ہیں اور لکھی جارہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔وہ آسمان کے نوشتوں پر لکھی گئی ہیں اُس خدا کے فرشتوں نے لکھی ہیں جو فرماتا ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جو نہ چھوٹے کو چھوڑتی ہے اور نہ بڑے کو اور ہر چیز اس میں تحریر کی جارہی ہے۔پس آسمان پر وہ قربانیاں لکھی گئیں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان کے اجر لکھے گئے ہیں۔ان میں سے ایک ذرہ بھی ضائع نہیں گیا۔انسان تو انسان کی قربانیوں اور خدمتوں کو بھول جایا کرتے ہیں مگر اللہ کبھی نہیں بھولتا۔اس لئے ہم جو انسانوں کو سناتے ہیں تو محض اس لئے کہ ان کے اندر بھی قربانیوں کے ولولے پیدا ہوں ورنہ یہ سنانا ان عظیم عورتوں کی قربانیوں کی جزا نہیں۔