محسنات

by Other Authors

Page 112 of 286

محسنات — Page 112

112 کر دیا گیا۔مارچ 1954ء میں الفضل پر سے جب پابندی ہٹی تو کوئی پریس الفضل کو چھاپنے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا۔کیونکہ مخالفین نے کہا تھا کہ جو بھی پریس الفضل کو چھاپے گا اس کا پر یس جلا دیا جائے گا۔اس موقع پر والدہ صاحبہ نے نہایت جرات ایمانی کا مظاہرہ کیا۔اور اپنے پریس میں الفضل شائع کر نیکی پیش کش کی۔تاریخ احمدیت جلد 17 صفحہ 277 پر یہ واقعہ اس طرح درج ہے۔" کتاب کا مسئلہ تو کسی نہ کسی طرح حل کر لیا گیا۔مگر جلد ہی اخبار کو شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑا کیونکہ بوجہ مخالفت کوئی پریس الفضل کو چھاپنے کے لئے تیار نہ تھا۔حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب نے محترمہ بیگم شفیع کو تمام حالات سے آگاہ کیا کہ کوئی پریس اخبار الفضل چھاپنے کو تیار نہیں ہے۔آپ کے پریس کے علاوہ ہماری نظر میں کوئی پریس نہیں جو الفضل کو چھاپ سکے۔بیگم شفیع نے بلا توقف ایمانی جرات سے جواب دیا کہ احمدیت کے لئے میرا پر لیس کیا میری جان بھی حاضر ہے میں ضرور ہر قیمت پر الفضل کو چھاپوں گی اور اس خدمت کو عین سعادت سمجھوں گی۔چنانچہ الفضل 30 / مارچ 1954 ء سے 15 اپریل 1954 ء تک دست کاری پریس میں چھپتا رہا۔ہوتا یہ تھا کہ سید مبشرات احمد صاحب جو پریس کے منیجر تھے اپنی نگرانی میں رات بھر اخبار چھپواتے اور بیگم شفیع اس عرصہ میں الفضل کے خیریت سے چھپنے کے لئے نوافل پڑھتیں اور دعائیں کرتیں۔(سوانح بیگم شفیع صفحه 101-102)