محسنات — Page 56
56 سیدہ اماں جان نے فرمایا:- ”اے میرے پیارے خدا ! یہ تو ہمیں چھوڑتے ہیں مگر تو ہمیں نہ چھوڑیو ( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ 548) اُس وقت حضرت اماں جان نے بجائے دُنیا دار عورتوں کی طرح چیخنے چلانے اور بے صبری کے کلمات منہ سے نکالنے کے صرف اللہ تعالیٰ کے حضور گر کر نہایت عجز وانکسار کے ساتھ دعائیں مانگنے کا پاک نمونہ دکھایا۔جب آخر میں یسین پڑھی گئی اور حضور کی مقدس رُوح قفس عنصری سے پرواز کر کے اپنے محبوب حقیقی کے حضور حاضر ہوگئی تو حضرت اماں جان نے فرمایا ”ہم خدا کے ہیں اور ہمیں اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور خاموش ہوگئیں۔اندر بعض مستورات نے رونا شروع کیا آپ نے ان عورتوں کو بڑے زور سے جھڑک دیا اور کہا میرے تو خاوند تھے میں نہیں روتی تو تم رونے والی کون ہو۔یہ صبر واستقلال کا نمونہ ایک ایسی پاک عورت سے جو ناز و نعم میں پلی ہو اور جس کا ایسا ناز اُٹھانے والا مقدس خاوند انتقال کر جائے ایک زبردست اعجاز تھا۔یہی نہیں۔حضرت اماں جان نے حضور کی وفات کے وقت یا اس کے تھوڑی دیر بعد اپنے بچوں کو جمع کیا اور صبر کی تلقین کرتے ہوئے انہیں نصیحت فرمائی کہ:- بچو خالی گھر دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لئے کچھ نہیں چھوڑ گئے۔اُنہوں نے آسمان پر تمہارے لئے دعاؤں کا بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے جو تمہیں وقت پر ملتا رہے گا۔( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ 554، بحوالہ افضل 19 جنوری 1962ء روایت حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ )