محسنات — Page 42
42 حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے خطاب کے آخر میں فرمایا: - احمدیت کو ابھی بہت لمبا سفر طے کرنا ہے اس کے لئے ہمیں بہت زادِراہ کی ضرورت ہے اور سب سے اچھا زادراہ تقویٰ ہے۔اپنے تقویٰ کی حفاظت کریں۔اصل زندگی وہ ہے جس میں خدا کی طرف سے ہم کلام ہونے والے فرشتے نازل ہوں اور وہ کہیں کہ کوئی غم اور فکر نہ کرو۔یہ خدا کی طرف سے مہمانی ہے۔ہم اس دنیا میں بھی ساتھ ہیں اُس دنیا میں بھی ساتھ ہوں گے۔ہم نے اتنا متقی بننا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو رویا وکشوف کثرت سے ہوں۔ہم اللہ سے ہم کلامی پائیں اور خدا کے قرب کے نظارے دیکھیں۔ایک ایسی احمدی نسل اگر آج پیدا ہو جائے تو آنے والے 100 سال کی حفاظت کی ضمانت حاصل ہو جائے گی۔حضور اقدس نے فرمایا: - نسلاً بعد نسل تعلق باللہ کی حفاظت کریں۔یہ مذہب کی جان ہے۔یہ نصیب ہو گیا تو سب کچھ حاصل ہو جائے گا۔یہ نہ ہوا تو اللہ کے ہاں مہمانی نہ ملے گی۔اُخروی زندگی میں بھی مہمانی کا سلوک اُسی سے ہوگا جن کی اس دُنیا میں خدا کی طرف سے مہمانی کی جائے گی۔خدا کرے کہ ہماری اس دُنیا کی جنتیں اُخروی جنتوں کی ضامن بن جائیں۔“ (مصباح ستمبر 1993 ، صفحہ 4-9) محترمہ حور جہاں بشری داؤ د صاحبہ لجنہ کراچی کی سرگرم داعیہ الی اللہ