محسنات

by Other Authors

Page 255 of 286

محسنات — Page 255

255 پاتیں تو قرض اٹھا کر بھی ضرورت مند کی ضرورت پوری کر دیتی تھیں اور دوسروں کے مالی فکر اپنے سینے سے لگالیتی تھیں۔(سیرت سیدہ ام طاہر صفحہ 227 تا230) حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ کی خدمت خلق کے جذ بہ کو حضرت قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں اجاگر کیا ہے:- وو مرحومہ میں غرباء کی امداد کا وصف بھی خاص طور پر پایا جاتا تھا چونکہ اُن کے دل کو خالق فطرت کی طرف سے جذبات کا غیر معمولی خمیر ملا تھا اس لئے جب بھی وہ کسی غریب یا بیمار یا مصیبت زدہ کو تکلیف میں دیکھتی تھیں تو ان کا دل بے چین ہونے لگتا اور فوراً اس کی امداد کے لئے تیار ہو جاتی تھیں۔چنانچہ ان کے گھر میں غریبوں، بیواؤں اور یتیموں کا تانتا لگا رہتا تھا۔اور وہ مقدور بھر سب کی امداد کرتی تھیں یعنی اگر کسی مصیبت زدہ کی خود مدد کر سکتیں تھیں تو خود کر دیتی تھیں اور اگر کسی ناظر یا کسی اور شخص کو کچھ کہنا ہوتا تو اُسے کہلا بھیجتی تھیں اور اگر حضرت صاحب تک معاملہ پہنچانا ضروری ہوتا تو حضور تک پہنچا دیتی تھیں۔میں نے دیکھا ہے جہاں حضور کی دوسری بیویاں حضور کی مصروفیت کا خیال کر کے یا اس اندیشے سے کہ کہیں ہماری سفارش غلط نہ ہو حضرت صاحب تک معاملات پہنچانے میں اکثر حجاب اور تامل کرتی تھیں وہاں یہ ” خدا کی بندی ( حضرت صاحبزدہ مراز بشیر احمد صاحب نے حضرت سیّدہ ام طاہر صاحبہ کو خدا کی بندی“ کے معزز لقب سے یاد فرمایا ہے۔یہاں خاکسار کے دل میں فوراً یہ خیال آیا کہ اسی خدا کی بندی نے ایک ایسے بیٹے کو جنم دیا اور دعاؤں کے ساتھ پروان چڑھایا جس نے ”مرد خدا کی حیثیت سے دنیا کے تمام ممالک کے مخلصین جماعت کے دلوں پر حکمرانی کی۔اور صحیح معنوں میں ” مردِ خدا“ کے لقب کا مستحق ہے خاکسار بشری بشیر )۔جب کسی شخص کو واقعی قابل امداد خیال کرتی تھیں تو بلا تامل حضور تک بات پہنچا دیتی تھیں اور پھر اس کا پیچھا کرتی تھیں۔بے شک وہ بعض