محسنات

by Other Authors

Page 235 of 286

محسنات — Page 235

235 عدیم المثال بیٹا تھا۔حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ جن کا تربیت یافتہ نافلہ مسیح موعود کا لقب پاکر خلافت ثالثہ کے عظیم مرتبہ کا حامل ہوا۔حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ کا اکلوتا فرزند حضرت مرزا طاہر احمد خلافت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوا اور حیرت انگیز اور عظیم الشان کارنامے سرانجام دیئے۔حضرت حسین بی بی جن کا جگر گوشہ حضرت سر محمد ظفر اللہ خاں جیسا روشن ستارہ تھا۔مکرمہ د محترمہ ہاجرہ بیگم صاحبہ والدہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے تقویٰ وزہد اور دعاؤں کا ثمر ایک نوبل انعام یافتہ کی صورت میں تمام دنیا میں شہرت پا گیا اور اپنے عجز وانکسار اور اخلاق فاضلہ کا لوہا بھی منوایا۔علاوہ ازیں ہزار ہا مثالیں احمدی ماؤں کی صورت میں دی جاسکتی ہیں۔ہمیں ان قابلِ رشک ماؤں سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ انسان کی ذاتی کوشش اور خواہش اُس کی اولاد کی کامرانی کے لئے کافی نہیں جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو۔اللہ تعالیٰ سے در د دل سے مانگنے والے اور اس کے فضل پر تو کل کرنے والے اُس کی بارگاہ سے بہت کچھ پاتے ہیں اور انی قریب کا وعدہ پورا ہوتے دیکھتے ہیں۔ہماری جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے ساتھ ایک سے ایک اعلیٰ نمونہ پاکیزگی اور صالحیت کا موجود ہے۔محترمہ سیدہ صالحہ بیگم صاحبہ کو اپنی اولاد کی تربیت کا بہت خیال رہتا تھا۔خود بھی نماز روزے کی پابند تھیں اور بچوں کو بھی بچپن سے اس کی عادت ڈالی۔نیز بچوں کے دل میں بھر پور خدمت دین کا جذبہ پیدا کیا۔تینوں بیٹوں کو بچپن ہی سے خدمت دین کے لئے وقف کر دیا۔محترم میر دادو احمد