محسنات

by Other Authors

Page 175 of 286

محسنات — Page 175

175 تکلیف کا احساس معمولی تھا۔پولیس والے بھی حیران ہوتے تھے کہ اس قدر اذیت دینے کے باوجود اس کو کوئی اثر نہیں ہورہا۔تو دراصل یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بعض دفعہ خدا اُس وقت غیر معمولی طور پر انسان کی حفاظت فرماتا ہے۔یہی بات 1974ء کے فسادات میں بھی ایک احمدی نے بتائی جس کو اینٹوں سے کوٹا گیا تھا۔اُن کا منہ کرچیوں کا ایک تھیلا بن گیا تھا۔ہڈیاں، دانت ٹوٹے اور بہت دردناک حالت تھی۔خدا نے بچالیا۔بعد میں جب سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہو گیا تو تب بھی اُن کا منہ زخموں سے اسی طرح بگڑا ہوا تھا۔اُن سے میں نے ایک دفعہ پوچھا کہ مجھے بتا ئیں اُس وقت آپ کی حالت کیا تھی۔جب اس قدر خوفناک سزادی جا رہی تھی۔اینٹوں سے منہ کو شنا کوئی معمولی بات تو نہیں تو مسکرا کر کہا چپ ہی کر جائیں۔لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ میں نے بڑی قربانی کی ہے مگر مجھے تو کچھ بھی نہیں پتہ لگا اور اُس وقت مجھے سمجھ آئی کہ لوگ شہادت کی دعائیں کیوں کیا کرتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہو کر تکلیفیں اُٹھا کر، زخم کھا کر ، پھر کیوں شہادت کی دُعائیں کیا کرتے تھے۔خدا اپنے فضل کے ساتھ ایسی تائید فرماتا ہے کہ انسان کو شدید زخموں کے باوجود وہ دُکھ نہیں ہوتا جو دشمن سمجھتا ہے کہ ہم اسے پہنچارہے ہیں۔اب میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہر زخمی ہونے والے کی یہی کیفیت ہوگی مگر یہ ایسی دو گواہیاں ہیں جن کا میں خود گواہ ہوں اور بلا تکلف اُنہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے موقع پر ہماری حفاظت فرماتا رہا ہے۔نسیمہ صاحبہ لکھتی ہیں کہ ہم نے اپنے گھروں کے خود پہرے دیئے۔لطیف صاحب اور اُن کے والد صاحب کے علاوہ 27 دیگر احمدیوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔سکھر کے حالات سنگین تر ہوتے گئے۔گیارہ احمدی (قربان راہِ مولا) ہو گئے۔ان حالات میں سکھر کونئی قیادت کی ضرورت تھی۔وہ کہتی ہیں کہ دین کو پیش کرنے کے لئے اُس وقت میرے پاس کوئی چیز نہیں تھی سوائے لطیف صاحب