محسنات

by Other Authors

Page 173 of 286

محسنات — Page 173

173 (قربانی) کی دُعا مانگا کرتے تھے۔آخر ایک روز ایک شخص مریض بن کر آیا اور مسیحا کی جان لے لی۔اُس نے کئی فائر کئے اور ڈاکٹر صاحب نے اُسی وقت شہادت کا عظیم درجہ حاصل کر لیا۔آب زم زم سے دُھلے ہوئے دوکفن مکہ سے لائے تھے۔اُن کی خواہش تھی کہ اُن میں اُن کو کفنایا جائے۔اصولاً شہید کو کفن نہیں دیا جاتا مگر ڈاکٹر صاحب کے کپڑے خون میں لت پت تھے۔جو پولیس نے لے لئے اور ڈاکٹر صاحب پر وہی کفن والی چادر ڈالی گئی۔مکرمہ امۃ الحفیظ شوکت اہلیہ ڈاکٹر انعام الرحمان صاحب انور ( قربان راہِ مولا ) بیان کرتی ہیں کہ جب ایک دن لوگوں نے آپ کو حالات خراب ہونے اور اس کے نتیجے میں خطرات سے آگاہ کیا تو آپ نے یہ کہہ کر علاقہ چھوڑنے سے انکار کر دیا کہ پھر تو یہ علاقہ احمدیت سے خالی ہو جائے گا۔آپ کے بہن بھائیوں اور عزیز واقارب نے سندھ چھوڑنے کا مشورہ دیا۔مگر اس وقت بھی حامی نہ بھری۔بلکہ کہنے لگے کہ شاید سندھ کی سرز مین میرا خون مانگتی ہے اور پھر سینے پر ہاتھ مار کر کہنے لگے کہ میں اس کے لئے تیار ہوں۔ڈاکٹر صاحب مجھے کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ جیسی دردمند، محبت کرنے والی اور دین کی راہوں پر قدم مارنے والی ساتھی عطا کی ہے۔آخری دن جب ہم دونوں بازار گئے ہوئے تھے تو ایک دوکان پر مجھے انتظار کرنے کے لئے کہا اور ساتھ ہی ایک اسٹول لا کر رکھ دیا کہ آپ یہاں بیٹھیں۔یہ گوارا نہ تھا کہ میں بے آرامی میں کھڑے ہو کر انتظار کروں۔ساتھ ہی گوشت کی دوکان تھی ڈاکٹر صاحب گوشت لے کر پیسے نکالنے لگے تو پیچھے سے اچانک دشمنوں نے حملہ کر دیا اور آپ موقع پر ہی ( قربان راہِ مولا ) ہو گئے۔آپ کی لاش خون میں لت پت تھی۔ان کی شہادت کا منظر بڑا دردناک تھا۔میرے سامنے تڑپتے تڑپتے جان دی۔اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل