حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 32
مصباح ریوه واور احمد قریشی 32 من تو شدم تو من شدی ومبر ۱۹۹۳ء عزیمہ بہن ! میں آپ کے اصرار پر بھی آپ کے نے کہا بیٹا یہ باغ کا سب سے اچھا پھول ہے، بشری دیتے ہوئے موضوع پر قلم نہ اُٹھانا کیونکہ میرے لئے مکی نے دُور سے ایک پھول کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ دکھائیں ہی تهایی که تقریبا میں سال کی بھر پور پیار بھری ازدواجی وہ کتنا اچھا ہے ، انہوں نے کہا کہ چلو چل کر دیکھتے زندگی اور اب یکسر تنہائی اور محرومی کے شدید تکلیف دہ ہیں۔نز دیک جا کر دیکھا تو ان کا دیا ہوا پھول اُس جذبات کے متعلق کچھ لکھ سکوں۔مگر اب تو کچھ لکھنے پر آمادہ سے بہتر تھا۔اس پر لینٹری نے کسی اور پھول کی طرف ہوا ہوں تو اس خیال سے کہ اپنے مولا کے حضور حاضر ہو اشارہ کیا وہ پھول بھی نزدیک جانے پر اتنا اچھا نہ نکالا جانے والی روح کے متعلق بحیثیت بیوی کے میرے علاوہ جس سے بیشری کو اطمینان ہو گیا کہ واقعی جو پھول اسے اور کوئی بھی نہیں بتا سکتا۔چنانچہ میں اپنے سادہ سے دیا گیا ہے وہ باغ کا سب سے اچھا پھول ہے۔الفاظ میں اس پہلو سے آپ کو کچھ نہ کچھ بتانے کی ایک دفعہ بشری کو خواب میں بتایا کہ تمہاری شادی کوشش کرتا ہوں۔سمیع سے ہو گئی ہے (یعنی اس کی صفت بات سننے اور بشری اپنے دادا جان کو ابا جی کہتی تھیں ان ماننے والے کی طرح ہوگی۔اور اللہ تعالٰی کا احسان ہے سے بہت پیار تھا۔اپنی بچپن کی شوخیوں کا ذکر کرتی کہ ہم نے زندگی بھر کبھی ایک دوسرے کی مخالفت نہیں تھیں اور کہتی تھیں کہ جس دن ابا جی فوت ہوئے اس کی۔یشتری کو اللہ پاک پر بے انتہا تو کل تھا۔آنحضور صلی دن سے تمام شوخیاں رخصت ہو گئیں۔بشری اکثرا با جی اللہ علیہ وسلم سے عشق تھا۔میں اس کی پرانی ڈائریان کو خواب میں دیکھتی۔ایران میں تو ان کی آہٹ اور کپڑوں دیکھ رہا تھا۔197ء کی ڈائری میں بھی سیرت کے مضامین کی سرسراہٹ تک محسوس کرتی تھیں۔انہیں کے ذریعے ہیں۔حضرت امام جماعت احمدیہ الرابع اللہ پاک مشرف کو مشکل حالات میں تسلی دیتا تھا۔جب کی جدائی، وطن سے ڈوری اُس پر شاق تھی۔ہماری شادی سے پہلے بشری نے انہیں تو اب میں دیکھا جب کبھی بہت سی باتیں جمع ہو جاتیں حضور کو خط وہ ایک باغ میں کھڑے تھے۔انہوں نے بہتری کو ایک لکھنے بیٹھ جاتی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھتی کہ حضور آپ پھول توڑ کر دیا۔منتشرنی نے کہا ابا جی یہ پھول تو اتنا اچھا میرے لئے دعا کر دیں بجواب دینے کی زحمت نہ کریں آپ نہیں ہے۔مجھے اس سے اچھا پھول چاہئیے۔جس پر انہوں کی مصروفیات بہت قیمتی ہیں خطوط میں اکثر پریشان