حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 33 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 33

: مصباح ربعه 33 ومبر ۱۹۹۳ء ہونے کے باوجود پریشانیوں کا ذکر نہ کرتی کہ آقا تھے۔یہ ایک دوسرے کا بھی محاورہ لکھ دیا ہے ورنہ کو صرف خوش کن باتیں لکھنی چاہئیں۔اُس کی ڈائریوں ہم دونوں کے ایک ہی کام تھے وہ رات رات بھر سے رسید یں ملی ہیں جن سے علم ہوا کہ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ لکھتی تو میں اُس کا موڈ دیکھ کر اُسے کچھ نہ کہا البتہ وسلم اپنے دادا جان اور خاکسار کی طرف سے از خود چندہ کبھی کبھی چائے کافی بنا دیتا کہ تھک گئی ہوگی تعریت دیا کرتی تھی۔چندہ دے کر کسی کو بتائی نہ تھی معمولی سے کے لئے آنے والے جب اُس کی محبتوں کا ذکر کرتے ہیں معمولی کام ہو یا بڑے سے بڑا وہ صرف اپنے مولا کریم کا تو یکی سوچتا ہوں ان کو کیا اندازہ کہ دراصل اس کا دروازہ کھٹکھٹاتی۔اپنے پیاروں کو بھی اپنی ضروریات دل کتنا حسین تھا۔آپ سوچیں کہ گھر میں کام والی جو کے متعلق ہوا نہ لگنے دیتی۔حتی کہ دُعا کے لئے بھی ایس صفائی کے لئے آتی تھی اس کو ہمیشہ گلے لگا کر پیار بھرے ڈر سے نہ کہتی کہ مبادا اس کے انداز سے کچھ ظاہر نہ ہو جملے کہ کہ رخصت کرتی تھیں۔جائے اور کوئی مدد کے لئے اشارہ نہ سمجھے صرف رات پالتو جانور رکھنے کو جانوروں کو تکلیف دینا بھتی ہی کو نہیں دن کو بھی طویل سجدے کہتی۔کسی کو مدد کی تختی۔پودوں کا ایک ایک پتا صاف کرتی تھیں اور ساتھ ضرورت ہوتی تو بے چین ہو جاتی۔دعائیں کرتی یہاں ساتھ ان سے باتیں کرتی تھیں کہ یہ بھی جاندار ہیں۔بانی تک کہ اللہ تعالی کوئی صورت پیدا کر دیتا کہ مدد کر سکے۔کشن کہ خوش ہوتے ہیں اور زیادہ پھلنے پھولنے لگتے اپنی ذات پر کبھی عمر چ نہ کرتی جبکہ دوسروں کے لئے عزیز سے عزیز چیز آسانی سے تحفہ دے دیتی۔گھر کی سجاوٹ کا بہت خیال تھا۔میرے کپڑوں کا ایران سے جب پاکستان آئی تھیں تو پہلے میرے بہت خیال رکھتی۔گھر سے جاتے وقت ہمیشہ گیلیری سے امی ابو کے گھر جاتی تھیں۔حالانکہ میرا دل چاہتا تھا کہ دیکھتی رہتی تھی۔اگر چولہے پر کوئی چیز ہوتی تب بھی پہلے اپنے امی ابا جان کے گھر جاکہ ملے وہ لوگ کتنے آنچ ہلکی کر کے ضرور گیلری میں خدا حافظ کرنے آتیں مکیں منتظر ہوں گے اور فطری طور پر بشری کو وہاں زیادہ اب بھی گھر سے نکلتا ہوں تو عادتا اوپر نگاہ اُٹھ جاتی سکون ملے گا۔مگر وہ پہلے سسرال جاتی۔اسی طرح کوئی ہے اور خال گیلری دیکھے کہ دل کی گہرائی سے بشری کے چیز بھی اپنے ماں باپ یا بھائی بہن کو دیتی تو مجھے سے لئے دعا نکلتی ہے۔اے اللہ تو اسے ہمیشہ خوش رکھنا۔ضرور اجازت لیتی تھی۔حالانکہ ہمیں نے ہمیشہ کہا کہ اس بشری جو بھی پہنتی اُسے سچ جانا۔کھانے بہت کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن کبھی بھی اس نے بغیر مجھے اچھے پکاتی تھیں۔وہ تیز تیز لکھتی تھی اس لئے عام دکھائے کوئی چیز نہیں دی اور نہ نہیں نے کبھی روکا۔پین با بال پوائنٹ اس کا ساتھ نہیں دے سکتا تھا۔محبت کرنے کا سلیقہ جانتی تھی۔میرے شوق اُس میں اُسے PILOT کا HITECH پیچ لا کر دیتا تو کے شوق ہو گئے تھے اور اُس کے شوق میرے شوق ہو گئے بہت پسند کرتیں۔میرا بچین کئی ماہ چلنا جبکہ وہ بہت تھے اور ہم ایک دوسرے کا کام کر کے خوشی محسوس کرتے جلد کی خالی کر دیتیں۔وہ صبح اٹھ کر مجھے اپنی خوا ہیں