حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 92
مدیا کا دیوه ۹۲ 92 رکوه محمدرفیق احمد الا خوب بھی تقریر تیری دلنشیں حسن بیاں آه ! چل بسی بشری داؤد نُور جہاں چھوڑ کر سب کو حزیں قلب تپاں بلانے والا ہے سب سے پیارا ہو گئی بالآخر خدا اس یہ ہی جاں سب تھے گرویدہ تیرے اوصاف کے کس کو یقیں تھا موت کا کس کو گہاں بہت بلند اخلاق تھا ، سیرت حسیں ان گنت تھیں تجھے میں ایسی خوبیاں تھی فرشتہ تو مگر انسان کا ایک روپ تھا کہہ کر ہی ہے یہ زمیں، کہ رہا ہے آسماں دین کی خدمت کا اس قدر کچھ شوق تھا بن گئی لجنہ کراچی کی وہ اک رُوحِ رواں خوش تھیں عہد یدار سب ، خوش امام وقت تھے ایسی خوش بختی بھلا کسی کے بس میں ہے کہاں توحید کا پرچار تیرا کام تھا صبح و مسا خوب کی جی بھر کے تم نے خدمت قرآن خاص تھا موضوع تیرا سیرت ختم رسل خوب تھی تقریر تیری دلنشیں حسنِ بیاں بہت سی لکھیں کتا بیں کئی چھپے مضمون بھی دعاؤں سے حضور کی قلم تھا تیرا رواں موت سے گو مجھ گئی ہے تیری شمع زندگی رونق بزم جہاں میں قائم رہیں گی نیکیاں تاریخ میں وہ زندہ و جھاد بہ ایسی ہوگئی ہمت و عظمت کا اک کہلائے گی روشن نشاں ہانے والی پر سدا برسیں خدا کی رحمتیں سب کی دعا ہے جنت الفردوس ہو تیرا مکان د کمبر ۱۹۹۳ ء > ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) ) )