حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 89
مصباح یوه 09۔89 تھا۔ہم دونوں نے ایک ایک قلمی نام رکھا تھا اور غیر جاگتی لگتا ہے سر پر سے ٹھنڈا سایہ رخصت ہو گیا۔پنجابی کے سر اخبارات کے لئے قلمی نام سے لکھتے تھے۔ذاتی خطوط چند اشعار یاد داشت سے لکھ رہی مون سجن کو پڑھ لکھے جاتے۔دانشوروں کو دانش مناری سکھائی جاتی کہ اپنی اپنی مان ضرور یاد آئے گی براہ کرم بیشہ نئی کے بچوں کو دعاؤں میں یاد رکھئے بشری کو یہ نام بہت پسند تھا۔مانواں ٹھنڈیاں چھانواں شہری بے شک مانواں ٹھنڈیاں چھانواں لاڈ ایڈاون سارے کوئی نہ کوئے یہاں تائیں آفرزند پیارے حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ چھوٹی آیا صدر جھڑ کیں نہ یتیم کسے نوں جیسی دی مر گئی مائی بینہ پاکستان آپریشن کے بعد جب کراچی سے رخصت مانواں باج یتیمان تا یکی دل وچ حرص نہ کائی ہو رہی تھیں تو ایک تقریب میں چند قطعات پیش مانواں دالے نہر خوشی وچ وانگ بھتیجیاں کل دے کرنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔بیشتری نے کئی مرتبہ رب دی آس یہاں تائیں جیوں رکھ جنگل سے کہا "ہاں" کے متعلق جو قطع کہے تھے وہ مجھے لکھوا مانواں والے مانواں دے دل سو فریاد بیادن دو۔ہر دفعہ ایسا ہوتا کہ ڈائری سامنے نہ ہوتی۔ہمیں کہتی رو رد موٹیاں مانواں والے آپے چپ کہ عبادت لکھوا دوں گی۔شرکی کو نسا ہم کہیں جا رہے ہیں۔مگر اچانک وہ اتنی دور چلی گئی کہ اب میں اسے قطعے کا ھوا نیلی محمل کے جوتے نہیں سکتی۔اپنے دل کی تسلی کے لئے بشری کے نام دو قطع پیش کر دیتی ہوں۔(1) تمین سال کی بشری گھر کے سامنے ریڑھی پر بکنے والے نیلی مخمل کے چھوٹے چھوٹے بوٹ دیکھ کو مچل گئی اور اپنی امی جان سے صدر کرنے لگی کہ مجھے کہاں ہم اور کہاں یہ ہستیاں پیر نور و با برکت نیلے نیلے ہوٹ دلا دیجئے۔امی نے بڑے پیار سے ہماری خوش نصیبی ہے کہ ان کی دیدہ ہوتی ہے وعدہ کیا کہ ریڑھی واں تو روزہ آتا ہے جس دن مبارک آج کی یہ ساخت رنگیں مبارک ہو پیسے ہوں گے دلا دوں گی۔بیٹری کو جب امی کی جبیب ہمارا چاند نکلا ہے ہماری عید ہوتی ہے سے فرمائش پوری ہونے کی کوئی امید نہ رہی تو است دادا جان کی طرف لپکی " ابا جی میلے تیلے جوتے ب (٢) امی کی جیب کا تھا۔وعدہ کیا اور بہت پیار سے کہا " کر یہ سایہ رہے ماں کا تو سکوں ملتا ہے ہیں۔ابا جی کی جیب کا بھی وہی حال تھا جو اُس کی میرے سر پر میری چھاؤں کو سلامت رکھنا تم کو ماں اتنی پیاری ہے دُعا کرتے ہیں کہ یہ جوتے تمہیں ضرور دلا دیں گے مگر اس وقت پیسے نہیں جب ادھر سے بھی توقع نہ رہی تو تھوڑی دیر مجلنے میرے مولا سب ہی ماؤں کو سلامت رکھنا کسی کی ماں کسی بھی عمر میں اکیلا چھوڑ جائے تو کے بعد گود سے اتر گئی اور آیا جی برابر کہتے رہے