حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 88
مصباح ریوه ^^ 88 حتی کہ بیشری نے کہنا شروع کیا چھوڑیں اب مجھے چاہئیے کبھی نہیں ہاتھ سے آرام سے کپڑے دھولیتی ہوں جب کبھی مولا پیسے دے گا۔نئی خرید لیں گے۔دونوں علم کا نور دسمبر ۱۹۹۳ء آپریشن کے کچھ دن بعد جب ڈاکٹر ٹانکے جانتے تھے کہ مشین گھر کی ضرورت ہے مگر ایک دوسرے کھولنے لگیں تو بشری کے چہرے پر ہلکے سے درد کہ کو طفل تسلی دے رہے ہوتے ایک دن حسب معمول سہنے کے تاثرات دیکھ کر ڈاکٹر نے کہا۔آپ کو بالکل داؤد صاحب وہاں رک گئے مشین کو دیکھا اور چل درو نہ ہو گا۔پتہ بھی نہیں چلے گا بس میں طرح دیئے ابھی دکان سے باہر نکلے ہی تھے کہ کندھے پر PLUCKING یا THREADING میں بالکل معمولی سا ایک بے تکلف ہاتھ کا دباؤ محسوس ہوا۔قریبیٹی تم ! محسوس ہوتا ہے ایسے ہی ٹانکے نکل جائیں گے۔بشرکی یکیں تو تمہیں تلاش کرتا کہ ہا۔مجھے تمہاری کچھ رقم نے کہا میں نے ایسے جھنجھٹ کبھی نہیں پالے۔کبھی دینی تھی۔پھر جیب میں ہاتھ ڈالا بٹوا کھولا اور پانچ کچھ نہیں کیا۔ڈاکٹر بشری کے چہرہ پر جھک آئیں غور ہزار روپے داود بھائی کو دے دیئے۔داؤد صاحب سے اُس کے چڑیا کے پر جیسی قدرتی طور پر کمان بھنویں نے اُسی وقت مشین خرید لی اور اپنی بوشو کے لئے دیکھیں اور بے ساختہ کہا۔خوشی حیرت اور مولا کے شکر کا موقع فراہم کر دیا۔تو پھر آپ کے چہرے پر یہ سارا علم کا نور ہے۔نقد انعام کا مصرف قصیدہ اور چہل احادیث کراچی کی ناصرات الاحمدیہ میں قصیدہ اور چہل ایک واقعہ صدر لجنہ اماءاللہ کراچی نے ہمیں کچھ احادیث حفظ کرنے کا شوق بشری کا پیدا کیا ہوا ہے۔نقد انعام سے نوازا۔بشری دفتر نہیں آئی تھی اُس وہ خود جب ناصرات میں تھی جب سے اُس نے بچیوں کا لفافہ بھی میرے پاس تھا۔مجھے علم تھا کہ بشری کا کو قصیدہ یاد کرانا شروع کیا تھا اب تک وہ بچیاں ہا تھے تنگ ہے۔دل میں خوش ہو رہی تھی اچھا ہے خوانین بن کر کئی بچوں کو حفظ کما چکی ہوں گی۔صدسالہ بشر کا کا کوئی کام نکل جائے گا مگر جب گھر آ کر فون پر جش تشکر کے خصوصی پروگرام میں قصیدہ رکھا اور باد میں نے اُسے بنایا تو اس نے مجھے کہا اول تو اس کی کرنے والی حمیرات کو انعامات دیئے۔طوبی کو قصیدہ ضرورت نہیں تاہم اگر انعام ملا ہے تو ایسے کرو کہ لفافہ یاد کروایا جو وہ بڑے پیارے اندازہ میں صحیح تلفظ کھولے بغیر تھر پارکر میں جو ہسپتال بن رہا ہے۔اس کے ساتھ پڑھتی ہے۔بچوں کو نظمیں یاد کروانے کے میں دے دو۔لئے باؤں کو کتنی بار و ہرانا اور سننا پڑتا ہے۔اس کا اندازہ کر کے سوچئے بشری کے گھر میں ہر وقت حمد و درود کا دور دورہ رہتا ہوگا۔بصیرت عبد الصمد یہ ہماری بشر یا داؤد کا قلمی نام ہے۔میں نے رکھا