حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 83 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 83

محبات دیده A 83 در ۱۹۹۳ء برکت ناصر ایک عالم ہے تیری یاد میں بیکل بشری ایک عالم ہے تیری یاد میں ہیکل بیٹر کی صرف یہیں ہی نہیں دُنیا تیری شیدائی ہے اب تو سوچا ہے کسی کو بھی نہ چاہا جائے دل کے سناٹے سے ایسی ہی صدا آئی ہے اب تو ہم لوگ ہیں اور یاد کی گھنگھور گھٹا اب کے برسات نے رنگ میں در آئی ہے دل کے بہلانے کی کوئی نہ میں صورت باقی تم سے جو رشتہ تھا اس میں بڑی گہرائی ہے تم نے تو بشری نئی دنیا بسا لی جا کہ مڑ کے دیکھا بھی نہیں کون تمنائی ہے کا سٹہ دل لئے چوکھٹ پر چلی آئی ہوں میری تو مولا کے در سے ہی شناسائی ہے