حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 79 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 79

مصباح ریده برکت ناصر، کراچی 2979 آه بشری داؤد صاحبه ممبر ١٩٩٣ء میر کتنا بھی ہو لیکن چند لمحوں کے لئے کی سیکرٹری۔بھر پور شخصیت کی مالک جس کی آوازہ وقعتا تاریک ہو جاتی ہے روشن کائنات میں جادو - بہترین مقرر ، سامعین پر چھا جانے والی ذ من قبول نہیں کر رہا۔کہ تو ہمیں ہمیشہ وہ عاشق رسول سیرت کے کیس موضوع پر بھی کے لئے چھوڑ گئی ہے لیکن یقین کرنا ٹہرے گا کہ میری بولی نہیں کچھ اس طرح اس میں ڈوب جانتیں کہ سننے عزیز بہین امتہ الباری ناصر اور تو یک جان دو۔۔۔والوں کو سحر زدہ کر دیتی۔ایسے ہی ایک سیرت کے قالب۔۔۔۔شعبہ اشاعت مبینہ کراچی کی ہانی۔۔۔اس جلسہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عور توں پیر دن شام کے چھے بجے فون کی گھنٹی بجی۔یہ کیا باری احسانات ہیں بعض بلوچ خواتین مہمانوں میں شامل آپا کی آواز لڑ کھڑا رہی تھی۔گھبرا کے پوچھا خیر تو تھیں۔بے اختیار بہنے والے آنسو گواہ تھے حق ہے۔جو ایا یہ شنکر کہ اچھی خبر نہیں بیٹری چلی گئی ہیں ہمیشہ کیلیئے پہنچانے والی آواز نے دلوں کو گرانہ کر کے محمد چھوڑ کر چلی گئی میرے پاؤں لڑکھڑانے لگے۔نہیں نہیں یہ انسانیت کے احسانات یاد دلا کر تشکر آنسو بہاتے سب کیسے ہو گیا۔میرے بھائیوں اور بھابھی نے پر مجبور کر دیا۔تقریر ختم ہو چکی لیکن انداز بیان تھے کہ کسی پر بیٹھا دیا۔وہ بتا رہی تھیں۔وہ جو تمہیں سب کے دلوں کو تسخیر کر گیا۔پھر جب کسی کو پیاری تھی۔اللہ میاں کو بھی بہت پیاری لگی ہسپتال بحیثیت مہمان بلاتے تو یہ سوال ضرور ہونا کہ بہتری ہفتہ بھر رہنے کے بعد گھر آنے کی اجازت ملنے پر کی تقر یہ ہے کہ نہیں۔۔۔۔اور جب بھی اُس تک یہ اپنے پیاروں کے ساتھ لفٹ تک آئی۔اور آنا فانا بات پہنچائی گئی تو کمال انکساری سے کہنا۔اور میری اپنے گھر کا رُخ بدل لیا۔ہارٹ اٹیک نے کچھ سوچتے بہن اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔یہ تو سب میرے موں کا سمجھنے کی ہمت ہی نہ دی۔ایمر جینسی میں جاکر ایک مرتبہ آنکھیں کھولیں۔آخری پیغام - حضور کو میرا بعمر ۴۷ سال مولائے حقیقی کی پیار بھری گود میں 100 احسان ہے۔اکثر کہتیں کہ دیکھو یہ سب حضور کی دعائیں ہیں۔ورنہ بعض اوقات یہ ہوتا ہے سلام کہتا اور اپنے پیاروں کو الوداعی سلام بلکہ ہمیشہ ہی یہ ہوا کہ تقریرہ تیار کی۔یہ خوش فہمی کہ کہتے ہوئے بروز منگل ۲۰ ، جولائی ۹۹۳ او کو آج کے جلسہ میں مشکل نہ ہوگی۔لیکن اختتام تک دل غیر مطمئن ہی رہنا اور جس پروگرام میں طبیعت چلی گئیں۔میں گھیرا ہٹ ہوتی۔سارا زور دُعا پر ہوتا تو وہ تقریر وہ جو کہا چی کمینہ کی جان تھی۔شبہ اصلاح وارشاد ایسی ہوتی اور بولنے کے دوران خدا تعالیٰ ایسے پوائنٹ