حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 60
مصبات دیوه 60 دسمبر ۱۹۹۳ء خورشید عطار محبتوں کے قرض مجھے یاد ہے کہ جب میں بیاہ کر آئی تو مجھے کسی نے وادی بھان نے انتہائی پیار سے کالے کپڑے کی دو بیٹیاں مخاطب کر کے کہا" ہم نے آپ کو اللہ تعالیٰ سے بہت دُعاؤں کے بعد حاصل کیا ہے۔ہم نے اللہ تعالٰی سے دعا کی تھی کہ ایسین چھی غلط کہ ناجیہ ہم سے پیار کرنے والی ہوا اور ہمارے پیارے عطو چچا کو ہم سے چھیننے والی نہ ہو۔امید ہے کہ بلکہ نفلیں " سفید دھاگے سے سی کہہ بیگ کو لگا دیں۔میرا منہس نہس کہ میرا حال ہوگیا کہ اماں جی یہ آپ نے کیا کیا۔مجھے کہا ہوتا تو کم از کم دھا گا تو کالا سوئی میں ڈال دیتی۔صبح دیکھا تو بیٹری وہی بیگ لئے یونیورسٹی جانے کے لئے تیار کھڑی ہے۔کہ آپ ہم سے اسی طرح پیار کریں گی جیسی طرح ہمارے منطو نہیں نے لاکھ سمجھایا کہ بشری میرا جنگ کے بجاؤ۔وہاں کوئی چچا ہم سے پیار کرتے رہے ہیں " میں نے کوشش کی کہ بات کرنے والی کو دیکھوں مگر اس وقت میں خود اپنے حواس میں نہ تھی کچھ نظر نہ آیا کہ کسی نے کہا ہے کیونکہ کیا کہے گا اس بیگ کو دیکھ کر کہنے لگی جب کوئی کچھ کہے گا یا ہنسے گا تو میں بتا دوں گی کہ یہ میری دادی نے مرمت کیا ہے۔بزرگوں کی قدر دانی کی ایسی مثال کہاں ملے گا۔کئی چہرے نہایت چاہت ومحبت سے مجھے دیکھ رہے تھے۔اس زمانے میں تناعت کا عالم بھی آشکار ہوا کبھی اس کو یہ بشری تختی محبت کے خزانے لٹانے والی اور دو سروں کو ضرورت ہوتی تو انتہائی لجاجت سے یونیورسٹی جاتے ہوئے آٹے محبت کرنے پر مجبور کرنے والی۔جو اس کو ملا وہ مجہو نہ ہو گیا۔کہ وہ بنشرفا کی محبت کا اسیر ہو جائے۔اس کی شخصیت کا آنے مانگتی۔اس کے آٹھ آنے مانگنے پر مجھے بہت غصہ آتا۔سحر ٹوٹنے دانا نہ تھا۔پانچ کا نوٹ تو اس نے کبھی قبول ہی نہیں کیا۔کہتی ضرورت ری نہیں پڑے گی۔زائد رقم میں نے کیا کرتی ہے۔تم یہ دینی ایک اپنی دادی کی سب سے چھنتی ہوتی تھی۔وہ دن ہیں روپیہ بھی دو تو واپسی پر آٹھ آنے واپس کھاتا۔صبیح بغیر اشتہ یاد گار ہیں جب وہ ایم ایس سی کے آخری سال کے دوران کے جاتی واپسی پہ اتنی نڈھال ہوتی کہ کھانا کھانے کی سکت ہمارے پاس آگئی۔ان دنوں اس کی چچا سے محبت و عقیدت بھی اس میں باقی نہ رہتی۔پلیٹ میں کھانا نکال کر دیتی تو آشکار ہوئی۔دادی سے والہانہ پیار جس کا اندازہ اس سے امین ہو سکتا ہے کہ وہ کیا کرتی۔اماں جی میں آپ کے پیٹ ؟ چند تو اسے کھا کر کہتی کہ اب بس باقی شام کو کھا لوں گی۔اور گھس جاؤں اور پھر وہ ایک ننھی بچی کی طرح اپنا منہ شام کو اس کا بچا ہوا کھانا اس کے چچا نجھپٹ کر اُٹھا لیتے کہ یہ میں کھا لوں گا تم تازہ کھانا لو اس محبت بھری چھینا جھپٹی داری کے پیٹ میں چھپا لیتی۔ایک وتعہ اس کا بیگ کثرت میں چند نوالے کھاتی۔اپنی پسند کی چیزی بھی کبھی پیٹ بھر کچھ نہ استعمال سے بوسیدہ ہو گیا اور اس کے ہینڈل ٹوٹ گئے۔کھاتی صرف چھلکنے پر اکتفا کرتی۔قناعت و صبر کی انتہا تھی۔